بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنے کا حکم

 

الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی سید المرسلین ومن تبعھم بإحسان إلی یوم الدین، أما بعد:

نماز قائم کرنا فرض ہے، ارشاد الہی ہے: {وأقیموا الصلاۃ وآتوا الزکاۃ وارکعوا مع الراکعین} (سورۃ البقرۃ: 34) یعنی اور نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو اور نماز اداکرنے والوں کے ساتھ نماز ادا کرو۔ نماز دین اسلام کا اہم ترین ستون ہے، ارشاد نبوی ہے: بني الإسلام علی خمس: شھادۃ أن لا إلہ الا اللہ وأن محمداً عبدہ ورسولہ، واقام الصلاۃ، وإیتاء الزکاۃ، والحج، وصوم رمضان (متفق علیہ ) یعنی اسلام پانچ بنیادوں پر قائم ہے: (1) اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، (2)نماز قائم کرنا ، (3) زکوۃ ادا کرنا ، (4) حج بیت اللہ کرنا ، (5) رمضان المبارک کے روزے رکھنا۔

اقامت صلوۃ کا مطلب ومفہوم یہ ہے کہ نماز کو اس کے تمام ارکان وشروط کے ساتھ ادا کی جائے، جناب نبی کریم نے فرمایا: صلوا کما رأیتموني أصلي (متفق علیہ ) لوگو! میری جیسی نماز پڑھو (خواہ تم امام ہو یا مقتدی یا مسبوق یا منفرد) ۔ اس حدیث میں اس بات کا اشارہ ہے کہ مقتدی نماز میں سورہ فاتحہ ضرور پڑھے، کیونکہ یہ معلوم ومتحقق ہے کہ نبی اکرم نمازوں میں سورہ فاتحہ ضرور پڑھتے تھے۔ اب میں اس تمہید کے بعد چاہتا ہوں کہ اس سلسلہ میں ان نصوص صریحہ واضحہ کو پیش کرو جو صراحتاً اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنا فرض وواجب ہے، اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی اور یہی مسلک جمہور صحابہ کرام وتابعین عظام وتبع تابعین وائمہ دین کا ہے، کما سیأتی۔

1 - پہلی دلیل: عن عبادۃ بن الصامت أن رسول اللہ قال: لا صلاۃ لمن لم یقرأ بفاتحۃ الکتاب۔ (صحیح بخاری: 1 / 104، صحیح مسلم: 1 / 169، سنن ترمذی مع تعلیق احمد محمد شاکر: 2 / 25، السنن الکبری للبیہقی: 2 / 38)

یعنی حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ جس شخص نے سورہ فاتحہ نہیں پڑھی اس کی نماز نہیں۔

یہ حدیث عام ہے نماز چاہے فرض ہو یا نفل اور وہ شخص امام ہو یا مقتدی یا اکیلا ، یعنی کسی شخص کی کوئی نماز سورہ فاتحہ پڑھے بغیر نہیں ہوگی ۔

امیر المومنین فی الحدیث محمد بن اسماعیل امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری میں بایں الفاظ باب باندھ کر اس کی توضیح کردی ہے: باب وجوب القرأۃ للامام والمأموم في الصلوات کلھا في الحضر والسفر وما یجھر فیھا وما یخافت (صحیح بخاری: 1 / 104) یعنی امام ومقتدی کے لیے سب نمازوں میں قرأت (سورہ فاتحہ ) واجب ہے، نماز حضری ہو یا سفری، جہری یا سری ، یعنی ہر قسم کی نماز میں امام ومقتدی کے لیے سورہ فاتحہ پڑھنا فرض ہے۔

علامہ کرمانی رحمہ اللہ اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: وفي الحدیث (أي حدیث عبادۃ) دلیل علی أن قرأۃ الفاتحۃ واجبۃ علی الإمام والمنفرد والمأموم في الصلوات کلھا۔ (عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری: 3 / 63) یعنی حضرت عبادہ بن صامت کی یہ حدیث اس امر پر دلیل ہے کہ سورہ فاتحہ کا پڑھنا امام، اکیلے اور مقتدی کے لیے تمام نمازوں میں فرض ہے۔

علامہ عینی حنفی عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری (3 / 64) میں فرماتے ہیں:

استدل بھذا الحدیث عبد اللہ بن المبارک والأوزاعي ومالک والشافعي وأحمد واسحاق وأبوثور وداود علی وجوب قراء ۃ الفاتحۃ خلف الإمام في جمیع الصلوات یعنی اس (حضرت عبادہ ) سے عبد اللہ بن مبارک، امام اوزاعی، امام مالک، امام شافعی ، امام احمد ، امام اسحاق، امام ابوثور ، امام ابوداود نے (مقتدی کے لیے) امام کے پیچھے تمام نمازوں میں سورہ فاتحہ پڑھنے کے وجوب پر دلیل پکڑی ہے۔

علامہ سندھی حنفی حاشیہ بخاری (1 / 95) پر لکھتے ہیں:

والحق أن الحدیث یفید بطلان الصلاۃ إذا لم یقرأ فیھا بفاتحۃ الکتاب یعنی حق بات یہ ہے کہ جس نماز میں سورہ فاتحہ نہ پڑھی جائے، اس حدیث عبادہ سے اس نماز کا باطل ہونا ثابت ہوتا ہے۔

امام نووی المجموع شرح مہذب (3 / 326) مصری میں فرماتے ہیں:

یعنی جو شخص سورہ فاتحہ پڑھ سکتا ہے ، اس کے لیے اس کا پڑھنا نماز کے فرائض میں سے ایک فرض اور نماز کے ارکان میں سے ایک رکن ہے، اور فاتحہ نماز میں ایسی معین ہے کہ نہ تو اس کی بجائے غیر عربی میں اس کا ترجمہ قائم مقام ہوسکتا ہے اور نہ ہی قرآن مجید کی کوئی دیگر آیت، اور اس تعیین فاتحہ میں تمام نمازیں برابر ہیں، فرض ہوں یا نفل، جہری ہوں یا سری، مرد ہو یا عورت ، یا مسافر لڑکا (نابالغ ) اور کھڑا ہو کر نماز پڑھنے والا اور بیٹھـ کر نماز پڑھنے والا اور حالت خوف اور امن میں نماز پڑھنے والا سب اس حکم میں برابر ہیں اور اس سورہ فاتحہ امام ومقتدی اور اکیلا نماز پڑھنے والا بھی برابر ہے۔

2 - دوسری دلیل: عن عبادۃ بن الصامت قال کنا خلف رسول اللہ في صلاۃ الفجر فقرأ رسول اللہ فثقلت علیہ القراء ۃ فلما فرغ قال لعلکم تقرؤون خلف امامکم، قلنا نعم ھذاً یا رسول اللہ! قال: لا تفعلوا إلا بفاتحۃ الکتاب فانہ لا صلاۃ لمن لم یقرأ بھا (سنن ابی داود: 1 / 120، سنن ترمذی: 1 / 41، وقال حسن 1/ 72) یعنی حضرت عبادہ بن صامت کہتے ہیں کہ فجر کی نماز ہم رسول اللہ کے پیچھے پڑھ رہے تھے، رسول اللہ نے پڑھا (قرأت کی ) تو آپ پر پڑھنا دشوار ہوگیا ، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا شاید تم اپنے امام کے پیچھے کچھ پڑھتے ہو، ہم نے کہا ہاں، یا رسول اللہ ! ہم جلدی جلدی پڑھتے ہیں، آپ نے فرمایا: سورہ فاتحہ کے سوا کچھ نہ پڑھا کرو، کیونکہ جو شخص سورہ فاتحہ نہ پڑھے اس کی نماز نہیں ہوتی اور ترمذی نے اس حدیث کو حسن کہا ہے۔

امام خطابی معالم السنن شرح ابی داود (1/ 390) میں فرماتے ہیں:

ھذا الحدیث نص بأن قرأۃ الفاتحۃ واجبۃ علی من صلی خلف الإمام سواء جھر الإمام بالقرأۃ أو خافت بھا واسنادہ جید لا طعن فیہ أیضا۔ (مرعاۃ المفاتیح: 1 / 162)

یعنی یہ حدیث نص ہے کہ مقتدی کے لیے سورہ فاتحہ کا پڑھنا فرض ہے، خواہ امام قرأت بلند آواز سے کرے یا آہستہ ، کیونکہ رسول اللہ نے خاص مقتدیوں کو خطاب کرکے خاص سورہ فاتحہ پڑھنے کا حکم دیا اور اس کی وجہ یہ بیان فرمائی کہ سورہ فاتحہ پڑھے بغیر کسی کی نماز نہیں ہوتی۔ اس حدیث کی سند جید ہے اس پر کسی طرح رد وقدح نہیں۔

مولانا عبد الحي حنفی سعایہ ص 303 میں لکھتے ہیں:

وقد ثبت بحدیث عبادۃ وھو حدیث صحیح قوي السند أمرہ بقراءۃ الفاتحۃ للمقتدي۔ یعنی حضرت عبادہ کی حدیث سے جو صحیح اور قوی السند ہے رسول اللہ کا حکم مقتدی کے لیے سورہ فاتحہ پڑھنے کے بارے میں ثابت ہوچکا ہے۔

3 - تیسری دلیل: عن عبادۃ أن النبي قال: لا تجزيء صلاۃ لا یقرأ الرجل فیھا بفاتحۃ الکتاب۔ (رواہ الدارقطنی وقال ھذا اسناد صحیح ص 122، شرح المہذب: 3 / 329، کتاب القراء ۃ دہلی ص 9، الدرایۃ: 76، وقال رجالہ ثقات) یعنی حضرت عبادہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا کہ جس نماز میں آدمی سورہ فاتحہ نہیں پڑھتا ہے وہ نماز کفایت نہیں کرتی یعنی باطل ہے۔

4 - چوتھی دلیل: عن أبي ھریرۃ عن النبي قال: من صلی صلاۃ لم یقرأ فیھا بالقرأۃ فھي خداج ثلاثا غیر تمام، فقیل لأبي ھریرۃ إنا نکون وراء الامام، فقال اقرأ بھا في نفسک فاني سمعت رسول اللہ یقول قال اللہ تعالی: قسمت الصلاۃ بیني وبین عبدہ نصفین ۔ الحدیث۔ (صحیح مسلم: 1 / 169) یعنی حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: جو شخص کوئی نماز پڑھے اور اس میں سورہ فاتحہ نہ پڑھے تو وہ نماز بالکل ناقص ہے (مردہ ہے) ناقص ہے (مردہ ہے ) ناقص ہے (مردہ ہے ) کامل نہیں ہے، حضرت ابوہریرہ سے کہا گیا کہ ہم امام کے پیچھے ہوتے ہیں (تب بھی پڑھیں)؟ حضرت ابو ہریرہ نے فرمایا ہاں! اس کو آہستہ پڑھا کرو، کیونکہ میں نے نبی کریم کو فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالی نے فرمایا میں نے نماز کو اپنے اور بندے کے درمیان دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔

امام نووی شرح مسلم (1 / 170) میں فرماتے ہیں:

ترجمہ: علمائے کرام فرماتے ہیں کہ اس جگہ الصلاۃ سے مراد سورہ فاتحہ ہے، سورہ فاتحہ کو نماز سے اس لیے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ سورہ فاتحہ کے بغیر نماز صحیح نہیں ہے، جیسے نبی نے فرمایا: حج عرفہ ہے، کیونکہ عرفہ جائے بغیر حج نہیں ہوتا۔ اس لیے معلوم ہوا کہ نماز میں سورہ فاتحہ فرض ہے، کذا فی نیل الاوطار: 2 / 214، والتعلیق الممجد ص 49، وتنویر الحوالک: 1 / 176، شرح الزرقانی: 1 / 176.

اقرأ بھا في نفسک کا معنی: اس کا معنی دل میں تفکر وتدبر وغور کرنا نہیں بلکہ اس اس کا مطلب یہ ہے کہ زبان سے آہستہ آہستہ سورہ فاتحہ پڑھا کر، کما قال الإمام البیھقي في کتاب القراء ۃ ص 17، والإمام النووی في شرح صحیح مسلم: 1 / 170، والزرقاني في شرح الموطأ: 1 / 176، والعلامۃ الشوکاني في النیل: 2 / 214، والشیخ عبد الحق الدھلوي في أشعۃ اللمعات: 1 / 372، والشاہ ولي اللہ الدھلوي في المصفی: 1 / 106، وملا علي قاری الحنفی في المرقاۃ: 1 / 530، ومولانا أنور شاہ الکشمیري الحنفي في العرف الشذی ص 157.

5 - پانچویں دلیل: عن عائشۃ قالت قال رسول اللہ : من صلی صلاۃ لم یقرأ فیھا بفاتحۃ الکتاب فھي خداج غیر تمام۔ (کتاب القراء ۃ ص 38، جزء القراء ۃ ص 8) یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ نے فرمایا: جس شخص نے کسی نماز میں سورہ فاتحہ نہیں پڑھی وہ نماز ناقص ہے (بے کار ہے) پوری نہیں ہے۔ جزء القراء ۃ ص 82 طبع گوجرانوالہ میں ہے: وقال أبوعبیدۃ یقال اخدجت الناقۃ اذا اسقطت والسقط میت لا ینتفع بہ۔ یعنی ابو عبیدہ نے فرمایا: اخدجت الناقۃ اس وقت کہا جاتا ہے جب اونٹنی اپنے بچے کو (قبل از وقت ) گرادے اور گرا ہوا بچہ مردہ ہوتا ہے، جس سے نفع نہیں اٹھایا جاسکتا ۔ (یعنی نماز باطل وفاسد ہوتی ہے).

6 - چھٹی دلیل: عن أنس بن مالک أن رسول اللہ صلی بأصحابہ فلما قضی صلاتہ أقبل علیہ بوجھہ فقال أتقرؤون في صلاتکم خلف الإمام والإمام یقرأ فسکتوا فقالھا ثلاث مرات فقال قائل أو قال قائلون: انا نفعل، قال: فلا تفعلوا، ولیقرأ أحدکم فاتحۃ الکتاب في نفسہ۔ (کتاب القراء ۃ ص 49، جزء القراء ۃ ص 28، سنن الدار قطني: 1 / 49) یعنی حضرت انس ؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ نے صحابہ کرام کو نماز پڑھائی ، نماز پوری کرنے کے بعد صحابہ کرام کی طرف متوجہ ہوکر فرمایا جب امام پڑھ رہا ہوتا ہے تو تم بھی اپنی نماز امام کے پیچھے پڑھتے ہو، صحابہ کرام خاموش رہے، تین بار آپ نے حکم یہی فرمایا پھر ایک یا زیادہ لوگوں نے کہا: ہم ایسا کرتے ہیں ۔ (یعنی آپ کے پیچھے پڑھتے ہیں ) آپ نے فرمایا: ایاس نہ کیا کرو تم میں سے ہر ایک صرف سورہ فاتحہ اپنے نفس میں آہستہ سے پڑھا کرو۔

یہ چند احادیث مرفوعہ ہیں ورنہ امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنے کے بارے میں اتنی زیادہ حدیثیں ہیں جو حد تواتر تک پہونچتی ہیں۔ چنانچہ امام بخاری رحمہ اللہ جزء القراء ۃ ص 14 میں فرماتے ہیں:

وتواتر الخبر عن رسول اللہ لا صلاۃ الا بقراء ۃ القرآن۔ یعنی اس بارے میں کہ بغیر سورہ فاتحہ پڑھے نماز نہیں ہوتی ، رسول اللہ سے تواتر کے ساتھ احادیث مروی ہیں۔

احمد محمد شاکر تعلیق ترمذی (2 / 125) میں فرماتے ہیں:

وجاء ت أحادیث صحاح متواترۃ انہ لا صلاۃ لمن لم یقرأ بفاتحۃ الکتاب وکل رکعۃ صلاۃ وکل مصلی داخل تحت ھذا العموم الصریح إماما کان أو ماموما أو منفردا۔ یعنی اس بارے میں صحیح اور متواتر احادیث موجود ہیں کہ جس شخص نے سورہ فاتحہ نہیں پڑھی اس کی نماز نہیں اور ہر رکعت نماز ہے اور ہر نمازی اس واضح عموم میں شامل ہے ، امام ہو یا مقتدی یا اکیلا کوئی فرد خارج نہیں ہے۔

امام عبد الوہاب شعرانی میراث کبری (1 / 1166) طبع دہلی میں فرماتے ہیں:

من قال بتعیین فاتحۃ وانہ لا یجزيء قرأۃ غیرھا قد دار مع ظاھر الأحادیث التي کادت تبلغ حد التواتر مع تأیید ذلک بعمل السلف والخلف۔ یعنی جن علماء نے سورہ فاتحہ کو نماز میں متعین کیا ہے اور کہا ہے کہ سورہ فاتحہ کے سوا کچھ اور پڑھنا کفایت نہیں کر سکتا، اولا تو ان کے پاس احادیث نبویہ اس کثرت سے ہیں کہ تواتر کو پہونچی ہوئی ہیں، ثانیا سلف وخلف صحابہ کرام ؓ وتابعین وتبع تابعین وائمہ عظام کا عمل بھی تعین سورہ فاتحہ در نماز کی تائید کرتا ہے۔

تمام صحابہ کرام امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ پڑھتے تھے، چنانچہ حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ: وکنا نتحدث انہ لا یجزئ صلاۃ الا بفاتحۃ الکتاب۔ (جزء القراء ۃ ص 31 دہلی ) یعنی صحابہ کرام بیان کیا کرتے تھے کہ کوئی نماز بغیر سورہ فاتحہ کے کفایت نہیں کرتی۔ اس حدیث میں کسی صحابی کو مستثنی نہیں کیا گیا ، بلکہ عام بیان کیا گیا ہے کہ تمام صحابۂ کرام کا یہی اعتقاد تھا کہ بغیر سورہ فاتحہ کے نماز نہیں ہوتی ہے، گویا صحابہ کرام کا اس مسئلہ پر اجماع ہے۔

علامہ علی بن عبد الکافی السبکی فتاوی السبکی ص 148 میں فرماتے ہیں:

وقد رویت آثار کثیرۃ في القراء ۃ خلف الامام في السریۃ والجھریۃ معا عن الصحابۃ والتابعین۔ یعنی صحابہ کرام وتابعین سے سری اور جہری نمازوں میں امام کے پیچھے (سورہ فاتحہ) پڑھنے کے متعلق بہت آثار مروی ہیں۔

امام شعبی فرماتے ہیں :

انما ھلکتم حین ترکتم الآثار وأخذتم بالمقاییس۔ (الاعتصام للشاطبی: 1 / 125) یعنی جب تم نے آثار (احادیث نبویہ واقوال صحابہ ) کو چھوڑ دیا اور قیاسات کو اپنالیا تو ہلاک ہوگئے۔

وکان یقول (أي أبوحنیفۃ) علیکم بآثار من سلف وایاکم ورأي الرجال وان زخرفوہ بالقول۔ (میزان کبری للامام الشعرانی ) یعنی امام ابو حنیفہ فرمایا کرتے تھے کہ سلف صالحین صحابہ کرام کے آثار کو لازم پکڑو اور آدمیوں کی رائے سے بچتے رہو ، اگرچہ وہ بات کو کتنا ہی مزین وخوبصورت کرکے پیش کریں۔

جو موقف اس مسئلہ میں تمام صحابہ کرام کا تھا وہی موقف تابعین عظام ، تبع تابعین اور ائمہ دین کا بھی تھا۔

امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ جزء القراء ۃ ص 5 میں لکھتے ہیں:

وما لا أحصی من التابعین وأھل العلم انہ یقرأ خلف الامام وان جھر وکذا في کتاب القراء ۃ للبیھقي ص 41. یعنی بے شمار تابعین اور اہل علم جن کی تعداد گنی نہیں جاسکتی ہے وہ سب یہ فرماتے ہیں کہ مقتدی امام کے پیچھے (سورہ فاتحہ ضرور ) پڑھا کرے، اگرچہ امام بلند آواز سے قراء ت کررہا ہو۔

الغرض امت کی اکثریت صحابہ وتابعین اسی چیز کے قائل ہیں کہ بغیر سورۂ فاتحہ کے کسی کی کوئی نماز نہیں ہوتی ۔

اور امام ابن حبان کے قول سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام نمازوں میں امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنا تمام صحابہ کرام اور جملہ اہل اسلام کا مسلک ہے اور اس میں کسی عالم کو اختلاف نہیں تھا، حتی کہ جو اہل کوفہ سورہ فاتحہ نہیں پڑھتے تھے وہ بھی اسے پڑھنے کو جائز قرار دیتے تھے اور اسے منع نہیں کرتے، چنانچہ وہ حضرت علی کے ایک اثر کی تضعیف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

وذلک أن أھل الصلاۃ لم یختلفوا من لدن الصحابۃ الی یومنا ھذا ممن ینسب إلی العلم منھم ان من قرأ خلف الإمام تجزیہ صلاتہ وانما اختار أھل الکوفۃ ترک القراء ۃ خلف الإمام لا انھم لم یجیزوہ۔ (کتاب المجروحین 2 / 5)

اور یہ اس لیے کہ صحابہ کرام سے لیکر آج تک تمام علماء اس بات پر متفق ہیں کہ جس نے امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھی اس کی نماز ہوجائے گی اس میں کسی عالم کا اختلاف نہیں ہے اور اہل کوفہ نے امام کے پیچھے سورۂ فاتحہ نہ پڑھنے کو بھی اختیار کیا ہے، نہ یہ کہ وہ پڑھنے کو ناجائز کہتے ہیں۔

 

امام ابو حنیفہ کا مسلک

یہ بات تو روز روشن کی طرح روشن ہوگئی کہ جملہ اہل اسلام کا موقف اس مسئلہ میں یہ ہے کہ سورہ فاتحہ پڑھے بغیر نماز نہیں ہوگی اور یہ حکم امام ومنفرد ومقتدی سب کو شامل ہے، اور یہی جملہ اہل اسلام کا مذہب ومسلک ہے، لیکن امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی رائے اس بارے میں کیا ہے؟

تو عرض یہ ہے کہ اس بارے میں ان کی دو رائے ہیں:

غیث الغمام حاشیہ امام الکلام ص 156 میں فرماتے ہیں:

لأبي حنیفۃ ومحمد قولان أحدھما عدم وجوبھا علی المأموم بل ولا تسن وھذا قولھما القدیم أدخلہ محمد في تصانیفہ القدیمۃ وانتشرت النسخ إلی الأطراف وثانیھما استحسانھا علی سبیل الاحتیاط وعدم کراھتھا عند المخافۃ للحدیث المرفوع لا تفعلوا إلا بأم القرآن وفي روایۃ لا تقرؤوا بشي إذا جھرت إلا بأم القرآن وقال عطائ: کانوا یرون علی الماموم القراءۃ فیما یسر فرجعا من قولھما الأول إلی الثاني احتیاطا۔ یعنی امام ابوحنیفہ اور امام محمد کے اس مسئلہ (قرأت فاتحہ خلف الامام) میں دو قول ہیں، ایک یہ کہ مقتدی کے لیے الحمد شریف نہ واجب ہے نہ سنت اور یہ ان کا پہلا قول ہے، امام محمد ؓ نے اپنی قدیم تصنیفات میں اسی قدیم قول کو داخل کیا اور ان کے نسخے اطراف میں پھیل گئے (اس لیے یہ قول زیادہ مشہور ہوگیا) دوسرا قول یہ ہے کہ مقتدی کو احتیاطا امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنا مستحسن وبہتر ہے اور آہستہ نماز میں کوئی کراہت نہیں ہے (یہ قول اس لیے اختیار کیا کہ ) صحیح حدیث میں وارد ہے کہ رسول اللہ نے صحابہ کرام مقتدیوں کو مخاطب ہوکر فرمایا کہ سورہ فاتحہ کے سوا کچھ نہ پڑھا کرو اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ جب میں بلند آواز سے پڑھ رہا ہوں تو سوائے سورہ فاتحہ کے کچھ نہ پڑھا کرو۔

اور امام صاحب کے استاد حضرت عطاء جلیل القدر تابعی نے فرمایا کہ صحابہ کرام وتابعین نماز جہری وسری میں مقتدی کے لیے سورہ فاتحہ پڑھنے کے قائل تھے (پس ان دلائل صحیحہ کی بنا پر ) امام ابوحنیفہ اور امام محمد نے احتیاطا اپنے پہلے قول سے رجوع کیا اور دوسرے قول کے قائل ہوگئے کہ مقتدی کو امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنا ہی بہتر ہے، ائمہ دین کا یہی شیوہ تھا، جب اپنے قول کے خلاف حدیث کو دیکھتے تو اپنے قول کو چھوڑ دیتے اور صحیح حدیث کے مطابق فتوی صادر فرماتے۔ اس لیے امام ابوحنیفہ ؒ نے فرمایا: إذا صح الحدیث فھو مذھبي ان توجہ لکم دلیل فقولوا بہ ۔ (در مختار: 1 / 5 معہ رد المختار) یعنی حدیث صحیح میرا مذہب ہے، اگر تم کو کوئی دلیل قرآن وحدیث سے مل جائے تو اس پر عمل کرو اور اسی کے مطابق فتوی دیا کرو۔

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ نماز، توحید باری کے بعد اسلام کا سب سے اہم ترین ستون وبنیاد ہے، دین ودنیا کی کامرانی وکامیابی اس میں مضمر ہے، اس کی صحت سورہ فاتحہ پر موقوف ہے، صحت نماز کے لیے اسے ہر نماز میں پڑھنا واجب وفرض ہے ورنہ نماز فاسد وباطل ہوگی، اور یہی موقف جمہور اہل علم کا ہے۔ امام نووی شرح المہذب (3 / 296) میں لکھتے ہیں:

والذي علیہ جمھور أھل الاسلام القراء ۃ خلف الإمام في السریۃ والجھریۃ۔

سری وجہری دونوں نمازوں میں سورہ فاتحہ پڑھنا جمہور اہل اسلام کا مسلک ہے۔

اور اہل کوفہ اگرچہ وجوب قرأت کے قائل نہیں ہیں لیکن جواز کے قائل ضرور ہیں، جواز کے منکر نہیں کما سبق في قول ابن حبان اور بالآخر امام ابوحنیفہ ومحمد نے بھی اسی طرف رجوع فرمایا، اس لیے یہ کہنا بالکل بجا ہوگا کہ پوری امت ثبوت قرأت فاتحہ خلف الامام پرمتفق ومتحد ہوگئی، اس لیے احوط یہ ہے کہ نماز میں سورہ فاتحہ امام کے پیچھے ضرور پڑھی جائے۔ اس موقف کو بہت سے علماء احناف نے اختیار فرمایا ہے، چونکہ اختصار مطلوب ہے، اس لیے تفصیل سے گریز کیا گیا ہے۔

اخیر میں اللہ تعالی سے دست بدعا ہوں کہ ہم تمام مسلمانوں کوکارخیر کی توفیق عطا کرے اور باہمی اختلاف وانتشار سے محفوظ رکھے، آمین ثم آمین۔