مسجد کی زمین بیچنے کا شرعی حکم

 

کیا فرماتے ہیںعلماء دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ھٰذا کے بارے میں کہ:

ہمارے گاؤں میں ایک جامع مسجد تھی، جب مسجد مصلیوں سے تنگ ہوگئی تو اس مسجد کے قریب ایک اور عالیشان مسجد تیار کی گئی اور پہلی والی مسجد مکتب کے کام میں استعمال کی جانے لگی۔ واضح رہے کہ مسجد کے بغل میں ایک قصائی کا گھر ہے اور ذبح بھی مسجد کے جسٹ پورب ہوتا ہے، جس کی وجہ سے بدبو مسجد کے اندر تک پہنچتی ہے۔ اس لئے مکتب کو وہاں سے جدید مسجد میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ انتقال مکتب کے چند روز بعد ہی سے مذکورہ قصاب مسجد کو اپنے کام میں استعمال کر نے لگا۔ مسجد کمیٹی نے حکمت عملی سے اسے بے دخل کر کے مکتب کا کام شروع کیا، لیکن بدبو وغیرہ کی وجہ سے دوبارہ واپس ہونا پڑا۔ اب پھر وہ دخل انداز ہو گیا ہے اور مسجدکمیٹی سے اس کا کہنا ہے کہ اسے ہمارے ہاتھ بیچ دیجئے یا تو اس کے بدلے کوئی دوسری زمین لے لیجئے اور مکتب کھول لیجئے ۔ اب سوال یہ ہے کہ اس بوسیدہ مسجد کو جو کہ اب مسجد کے طور پر استعمال نہیں ہو رہی ہے اور اس پر ایک شیطان صفت آدمی دخل انداز ہے، فروخت کر کے مسجد کے کسی کام میں لگا سکتے ہیں یا اس کے بدلے دوسری زمین لے سکتے ہیں مکتب وغیرہ کھولنے کے لئے ۔ دلائل کی روشنی میں جواب سے نوازیںگے۔

 

الجواب بعون اللہ الوھاب وھوالموفق للصواب:

صورت مسئولہ کے جواب میں سب سے پیاری بات امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی ہے وہ فرماتے ہیں کہ جس جگہ ایک بار مسجد بن جائے تو تاقیامت مسجد ہی رہے گی، اسے نہ تو کسی مصرف میں لایا جا سکتا ہے اور نہ ہی اسے فروخت کیا جاسکتا ہے۔ فتاویٰ عالمگیری کے مطابق اسی قول پر فتویٰ ہے۔ (2 / 186 187) وفی فقہ السنۃ: (3 / 410) إذا لزم الوقف فانہ لایجوز بیعہ ولا ھبتہ ولا التصرف فیہ بأي شیء یزیل وقفیتہ لقول النبی فی ابن عمر رضی اللہ عنہ: لایباع ولایوھب ولایورث، ویری أبو حنیفۃ أنہ یجوز بیع الوقف، قال أبویوسف لو بلغ أبا حنیفۃ ھذا الحدیث لقال بہ۔ یعنی اگر وقف لازم ہوجائے تو نہ اس کی بیع جائز ہے او رنہ ہبہ اور نہ اس میںکسی طرح کا تصرف، جس سے اس کی وقفیت ختم ہو جائے، اس دلیل کی بنیاد پر کہ آپ نے فرمایا کہ وقف شدہ چیز نہ بیچی جائے گی اور نہ ہبہ کی جائے گی اور نہ وراثتاً کسی وارث کی طرف منتقل ہوگی ۔ (یہ مسلک جمہور فقہاء ومحدثین کرام کا ہے) اس کے بالمقابل امام ابو حنیفہ کا خیال ہے کہ وقف شدہ چیز کی بیع جائز ہے، ان کا موقف سنت رسول کے خلاف ہے، چنانچہ امام ابویوسف اپنے شیخ پر تنقید کر تے ہوئے لکھتے ہیں کہ اگر امام ابوحنیفہ کو یہ حدیث پہنچی ہوتی تو وہ ضرور اس کے قائل ہوتے اور اپنا مذہب تبدیل کر دیتے۔

تبیین الحقائق فی شرح کنز الدقائق (4 / 272) میں یوں ہے: ولو خرب ماحول المسجد واستغنی عنہ یبقی مسجداً عند أبی حنیفۃ (وھو قول أبي حنیفۃ ومالک والشافعي) لأنہ اسقاط لملکہ فلایعود إلی ملکہ کالإعتاق ألا تریٰ أن المسجد الحرام استغنی عنہ أھلہ فی زمن الفترۃ ولم یعد إلی ورثۃ الباني (الواقف) وعند محمد رحمہ اللہ یعود إلی ملکہ أو إلی ورثتہ بعد موتہ لأنہ عینہ لجھۃ وقد انقطعت کالکفن إذا خرج إلی مالکہ یعنی اگر مسجد کے آس پاس کی جگہ ویران اور غیر آباد ہوجائے اور لوگوں کو اس کی ضروریات باقی نہ رہے تو بھی مسجد، مسجد ہی رہے گی ، امام ابو یوسف ، امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام شافعی رحمہم اللہ کے نزدیک اس کے وقف سے مالک کی ملکیت ختم ہوگئی۔ تو جب اس سے اس کی ملکیت ختم ہوگئی تو اس کی ملکیت میں کبھی بھی نہیں آئے گی، جس طرح کسی نے اپنے غلام کو آزاد کر دیا تو اسے آزادی ملنے کے بعد کبھی بھی وہ آقا کی ملکیت میںنہیں آئے گا ، اس کی نظیر مسجد حرام ہے جب زمانہ فترۃ نبوت میں اس کے آباد کر نے والے نہ رہے تو یہ مسجد حرام مسجد ہی رہی ، واقف کے وارثین کی ملکیت میں نہیں آئی۔ لیکن امام محمد کا خیال یہ ہے کہ اگر واقف خود زندہ ہو اور صورت حال یوں ہو تو اس کی اور اس کے انتقال کی صورت میں اس کے وارثین میںچلی جائے گی۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ جب یہ مسجد عبادت کے لئے وقف ہوئی تھی اور قرابت خاصہ باقی نہ رہی تو ایسی صورت میں مالک یا اس کے وارثین کی ملکیت قرار پائے گی۔ اس تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ عام وقف شدہ جائدا داور وقف شدہ جائے مسجد کے بارے میں امام ابوحنیفہ کا نقطۂ نظر مسجد کے بارے میں امام مالک اور امام شافعی کی طرح ہے۔ اب ہم تفصیل سے ائمہ کرام کے مسائل بیان کرتے ہیں۔

فی الموسوعۃ الفقہیۃ (37 / 225، 226) جمہور الفقہاء علی أن المسجد لا یباع وفي ھذا یقول الحنفیۃ: من اتخذ أرضہ مسجدا أو استوفی شروط صحۃ وقفہ لم یکن لہ أن یرجع فیہ ولا یبیعہ ولا یورث عنہ لانہ تجرد عن حق العباد وصار خالصا للہ تعالیٰ وإذا أسقط العبد ما ثبت لہ من الحق رجع إلی أصلہ فانقطع تصرفہ عنہ کما فی الإعتاق ولو خرب ما حول المسجد واستغنی عنہ یبقی مسجد عند أبی یوسف لانہ إسقاط منہ، فلا یعود إلی ملکہ وعند محمد یعود إلی ملک البانی (الواقف) إن کان حیا أو إلی وارثہ بعد موتہ وإن لم یعرف بانیہ ولا ورثتہ کان لھم بیعہ، وفي القرطبي لا یجوز نقض المسجد ولا بیعہ ولا تعطیلہ وإن خربت المحلۃ۔

ویقول الشافعیۃ : من وقف مسجداً فخرب المکان وانقطعت الصلاۃ فیہ لم یعد إلی الملک ولم یجز التصرف فیہ لأن ما زال الملک فیہ لحق اللہ تعالیٰ ولا یعود إلی الملک بالإختلال کما لو اعتق عبداً ثم زمن۔

ویقول الحنابلۃ بتحریم بیع المسجد إلا أن تتعطل منافعہ بخراب أو غیرہ کخشب تشعث وخیف سقوطہ ولم یوجد ما یعمر بہ فیباع ویصرف ثمنہ فی مثلہ أو بعض مثلہ نص علیہ أحمد۔

اس پوری عبارت سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام ائمہ اربعہ اور ان کے ماننے والوں کا نقطۂ نظر ایک ہی ہے، وہ یہ کہ مسجد مسجد ہی رہے گی، نہ اس کا بیچنا جائز ہے اور نہ ہبہ کرنا اور نہ وراثتاً منتقل کر نا، گرچہ مسجد ویران ہو جائے اور وہاں کے لوگ نہ رہیں۔ صرف امام احمد کے مسلک میں ناگزیر حالت میں کچھ لچک پائی جاتی ہے۔ لیکن میرے نزدیک راجح وہی ہے جو اس سے قبل ظاہر کر چکے ہیں۔ ایک تو اس وجہ سے کہ نبی کریم نے جائداد موقوف کو بیچنے، ہبہ وغیرہ کرنے کی سخت ممانعت کی ہے اور دوسرے اس وجہ سے کہ واقف کے منشا کے سراسر خلاف ہے، کیونکہ اس کا مقصد جائے مسجد کے وقف کر نے سے یہ ہے کہ وہاںنماز ہوتی رہے ، اور اس کو برابر اجر وثواب ملتا رہے۔ اصول کو باقی رکھتے ہوئے جب ہم اس کو بیچ دیںگے تو واقف کے منشا کے خلاف لازم آئے گا ، تیسری بات یہ ہے کہ آج جس میں اللہ تعالیٰ کی عبادت ہوتی رہتی ہے، کل بیچنے کی صورت میں اس میں کوئی بھی کام ہوسکتا ہے، جو شرعا جائز ودرست نہیں۔ یہ واقف کے منشا کے سراسر خلاف ہے۔

مناسب یہ ہے کہ ہمت وجرأت سے کام لے کر اس کو آ باد کریں۔ کتاب وسنت میں اس مسئلہ سے متعلق جو بات صحیح وقوی تھی، وہ آپ کے سامنے پیش کر دی گئی، شیخ الکل فی الکل مولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی ایک استفسار کے جواب میںتحریر فرماتے ہیں: حکم شیٔ وقفی کا، مثل حر کے ہے ، فإن الوقف بعد الصحۃ لایقبل الملک کالحر لایقبل الرقبۃ کذا فی شرح الوقایۃ وغیرھا، الوقف لایباع ولایوھب ولایورث کذا فی الفتاویٰ العالمگیریۃ والدر المختار وغیرھما من کتب الفقہ (فتاویٰ نذیریہ 2 / 324) اور فتاویٰ ثنائیہ میںیوں ہے کہ جو مکان شرعی مسجد بن جائے اس پر دکانیں اور کچھ بنانا جائز نہیں ہے۔ مسجد کو دیگر ضروریات کے لئے استعمال نہیں کیا جا سکتا اگر متروکہ مسجد بستی سے دور ہے تو وہ بھی عبادت کے لئے کھلی رکھنی چاہئے۔

 

دارالإفتاء

جامعہ سلفیہ(مرکزی دارالعلوم)بنارس