کیا عید گاہ کی مرمت وغیرہ کے لیے حکومت ہند کا تعاون لینا جائز ہے؟

 

کیا فرماتے ہیںعلماء دین ومفتیان کرام شرع متین درج ذیل مسئلہ میں کہ:

عید گاہ کی مرمت اور اس کے فرش وغیرہ کی تعمیر کے لیے حکومت ہند کا مالی تعاون قبول کیا جاسکتا ہے؟

 

الجواب بعون اللہ الوھاب ومنہ الصدق والصواب:

صورت مسئولہ میں واضح ہونا چاہئے کہ ہندوستان کی حکومت ہند ومسلمان کی مشترکہ اور سیکولر حکومت ہے، جس طرح اس میںہندوؤں کے حقوق ہیں، اسی طرح مسلمانوں کے بھی حقوق ہیں، کیونکہ ہر دونوںفرقوں نے اس کی ترقی وفروغ کے لئے اپنی اپنی جانی ومالی ہر قسم کی قربانیاں پیش کی ہیں اور کر رہے ہیں۔ در حقیقت حکومت کے پاس جو مالی خزانہ ہے اس میں ہمارا بھی مالی تعاون شامل ہے۔ اور حکومت ہم پر جو کچھ خرچ کرتي ہے اسی مالی وجانی تعاون کا نتیجہ ہے ورنہ ایسی دریا دلی کا مظاہرہ نہ کرتی۔ تو کیا ہم جو کچھ حکومت کو دیتے ہیں اس کو یا اس کے بدلہ میں لے نہیں سکتے؟ حاصل یہ ہے کہ حکومت ہند کی طرف سے ہمیں جو تعاون ملتا ہے وہ ہمارے لئے حلال وجائز ہے بلکہ ہمیں اپنے حقوق طلب کر نے کا حق ہے، کیونکہ وہ ہمارا ہی دیا ہوا ہے اور ہم نے مختلف شکلوں میں حلال ہی مال دیا ہے، تو کیا اس کو لے نہیں سکتے ۔ ہاں بفرض محال اگر ہم نے مال حلال نہیں بلکہ حرام دیا ہے یا دیتے ہیں تو مسئلہ کی نوعیت کچھ اور ہوگی؟ تو آپ ہی فیصلہ کریں کہ حکومت کو مختلف شکلوں میں کس طرح کا مال دیتے ہیں، حلال یا حرام؟ بہرحال ہم اگر اپنے حقوق سے دست بردار ہوجائیں یا ہوتے رہیں تو صورت حال مزید پیچیدہ ہو تی جائے گی اور یہ سوالات جنم لیںگے کہ کیا حکومت جو تنخواہ دے رہی ہے اس کا لینا جائز ہے؟ کیا حکومت جو کنویں وغیرہ بنوارہی ہے ان کا استعمال درست ہے؟ کیا جو حکومت سے مختلف قسم کا تعاون مل رہا ہے اس کا لینا جائز ہے؟ اگر ان سوالات کے جوابات نفی میں ہیں تو اس ملک میں رہنا مشکل ہوگا۔ بہرحال حکومت کے تعاون سے عیدگاہ کافرش بنوانا بلا کسی لیت ولعل کے جائز ہے، اس میں کسی قیل وقال کی گنجائش نہیں ہے، فرمان نبوی ہے : الحلال بین والحرام بین وبینھما أمور متشابھات (البخاری: الإیمان ، باب فضل من استبرأ لدینہ، برقم: (52) ومسلم: المساقاۃ، باب أخذ الحلال وترک الشبھات، برقم: (107 / 4094) چونکہ حکومت سے جو تعاون مل رہا ہے وہ حلال ہے اس لئے اس کے استعمال میںکوئی قباحت ومضائقہ نہیں ہے۔

 

 

دارالإفتاء

جامعہ سلفیہ(مرکزی دارالعلوم)

بنارس