جائز ومشروع وسیلہ

 

کیا فرماتے ہیں علما ء دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ :

ہمارے چندولی میںوسیلہ کے سلسلے میں بڑا اختلاف چلا آرہا ہے، ایک گروہ کا کہنا ہے کہ زندہ مردہ (قبر والے) سب سے وسیلہ جائز ہے۔ دوسرا گروہ کہتا ہے کہ زندہ سے وسیلہ جائز ہے اور نیک عمل کا وسیلہ بھی جائز ہے۔ قرآن وحدیث میں آئے ہوئے لفظ وسیلہ سے کیا مراد ہے؟ اس سلسلے میں وسیلہ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ ہر اعتبار سے واضح فرمائیں ۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اجر جزیل سے نوازے ، آمین۔

 

الجواب بعون اللہ الوھاب وھو الموفق للصواب:

وسیلہ کا لغوی معنی : وسیلہ وہ عمل ہے جس کے ذریعہ کسی کا قرب حاصل کیا جائے۔ کہا جا تا ہے کہ توسل إلیہ بوسیلۃ أي إذا تقرب إلیہ بعمل۔ یعنی عمل کے ذریعہ اس کا تقرب حاصل کیا ( مختار الصحاح للجوہری، ص: 300) بادشاہ کے نزدیک مرتبہ، درجہ ، قربت پانا (قاموس)

وسیلہ کا شرعی معنی : شریعت میں وسیلہ کہتے ہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا تقرب حاصل کرنا، اس کی اطاعت ، عبادت اور اس کے انبیاء ورسل کی اتباع کر کے اور ہر اس عمل کے ذریعہ جس کو اللہ پسند کرے اور اس سے خو ش ہو۔

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا ارشاد ہے: وسیلہ قربت کو کہتے ہیں (فتح القدیر للشوکانی: 2 / 51) حضرت قتادہ نے قربت کی تفسیر میں کہا : اللہ کا تقرب حاصل کرو اس کی اطاعت کر کے اور اس عمل کے ذریعہ جس کو اللہ پسند کرتا ہے اس لئے کہ شریعت نے جتنے بھی واجبات ومستحبات کا حکم دیا ہے، وہ سب تقرب کا ذریعہ اور شرعی وسیلہ ہیں، اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: {یا أیھا الذین آمنوا اتقوا اللہ وابتغوا إلیہ الوسیلۃ} (المائدۃ: 35) نیز ارشادفرمایا: {أولئک الذین یدعون یبتغون إلی ربھم الوسیلۃ} (الاسراء:57) اس تشریح سے معلوم ہوا کہ لغت اور شریعت دونوں ہی اعتبار سے وسیلہ کا معنی تقرب ہے، یعنی اعمال صالحہ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا۔

سورہ مائدہ والی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ایمان، تقویٰ اور جہاد کے ذریعہ اپنی طرف وسیلہ تلاش کر نے کا حکم دیا ہے۔ اور سورہ اسراء والی آیت میں اللہ نے مسلمانوں کو توجہ دلائی ہے کہ مشرکین جو اشخاص ومخلوقات کے ذریعہ اللہ کا تقرب ڈھونڈتے ہیں تو ان کا یہ عمل بے فائدہ ہے۔

وسیلہ کی دو قسیمیں ہیں :

۱- مشروع

۲- غیر مشروع

شرعی وسیلہ کی تعریف: شرعی وسیلہ جس کا اللہ تعالیٰ نے ہمیںاپنی کتاب میںحکم فرمایا ہے اور آنحضرت نے جس کی وضاحت فرمائی ہے یعنی اللہ کا تقرب حاصل کرنے کے لئے شریعت کے موافق اعمال صالحہ اور طاعات کو انجام دینا جس کو اللہ پسند کرتا ہے اور اس سے راضی ہے۔

مشروع وسیلہ کی تین قسمیں ہیں:

۱- مومن کا اللہ تعالیٰ سے وسیلہ چاہنا اس کی برتر ذات کے اسماء حسنی اور صفات عالیہ کے ذریعہ۔

۲- مومن کا اللہ تعالیٰ سے وسیلہ چاہنا اپنے اعمال صالحہ کے ذریعہ۔

۳- مومن کا اللہ تعالیٰ سے وسیلہ چاہنا اپنے حق میں زندہ ، موجود مومن بھائی کی دعا کے ذریعے۔

مشروع وسیلہ کی پہلی قسم : یعنی اللہ کی بلند ذات ، اس کے اسماء حسنی اور صفات عالیہ کے ذریعے اس کا وسیلہ چاہنا، اس مقبول ترین وسیلہ کی تعریف یہ ہے کہ اللہ رب العزت سے دعاء مانگنے سے قبل اس کی جناب میںاس کی بزرگی ، حمد ، اس کی ذات برتر کی تقدیس، اس کے اسماء حسنی وصفات عالیہ کو پیش کیا جائے پھر جو کچھ حاجت ہو پیش کی جائے تاکہ تسبیحات اس کی بارگاہ میں وسیلہ بن جائیں اور اللہ تعالیٰ ہماری دعائیں قبول کر لیں اور ہم اپنا مطلوب حاصل کر لیں اس وسیلہ کی چند دلائل:

(1) {وللہ الأسماء الحسنی فادعوہ بھا وذروا الذین یلحدون فی أسمائہ سیجزون ما کانوا یعملون} (الاعراف: 180) اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ا پنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اس کو اس کے اچھے ناموں سے پکاریں تاکہ ان کی دعا جلد قبول ہو۔

(2) {ربنا إنک تعلم ما نخفي وما نعلن وما یخفی علی اللہ من شیٔ في الأرض ولا في السماء، الحمد للہ الذي وھب لی علی الکبر إسماعیل وإسحاق إن ربی لسمیع الدعائ، رب اجعلنی مقیم الصلوۃ ومن ذریتی ربنا وتقبل دعاء ربنا اغفر لی ولوالدی وللمؤمنین یوم یقوم الحساب} (ابراہیم: 14 83)

ابو الانبیاء ابراہیم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی حمد، سمع اور عطا جیسی اعلی صفات کا وسیلہ بارگاہ الہی میں پیش کر کے دعا مانگتے ہیں۔ حضرت ابراہیم ؑ کے علاوہ قرآن مجید میں دوسرے مشہور انبیاء کرام کی دعائیں بھی اسی مشروع وسیلہ اور طریقہ کے ساتھ مذکور ہیں لیکن طوالت کے خوف سے ان کا ذکر نہیں کیا جا رہا ہے۔

اسی طرح چند احادیث بھی ملاحظہ ہوں :

۱- عن عبد اللہ بن بریدۃ عن أبیہ أن رسول اللہ سمع رجلاً یقول: اللھم إنی أسألک بأني أشھد إنک أنت اللہ لا إلہ إلا أنت الأحد الصمد الذي لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفوا أحد۔ قال والذي نفسي بیدہ لقد سأل اللہ باسمہ الأعظم الذي إذا دعي بہ أجاب وإذا سئل بہ أعطی۔ (الترمذی: الدعوات، باب ما جاء فی جامع الدعوات عن النبی ، برقم: (3475) وصححہ الألبانی)

۲- اللھم رب جبرئیل ومیکائیل واسرافیل، فاطر السمٰوات والأرض عالم الغیب والشھادۃ أنت تحکم بین عبادک فیما کانوا فیہ یختلفون، اھدنی لما اختلف فیہ من الحق بإذنک إنک تھدی من تشاء إلی صراط مستقیم۔ (مسلم: صلاۃ المسافرین، باب صلاۃ النبی ودعائـہ باللیل، برقم: (200 / 1811) دیکھا آپ نے آنحضور حق و ہدایت کی راہ پر چلنے اور توفیق پانے کی اللہ سے دعا مانگ رہے ہیں۔ اس سلسلے میں سیکڑوں احادیث ہیں لیکن طوالت کے خوف سے انہیں دونوں پر اکتفا کرتا ہوں۔

مشروع وسیلہ کی دوسری قسم : اعمال صالحہ کا وسیلہ:

اس سلسلہ میں دلائل بہت ہیںلیکن میںیہاں سب سے پہلی مثال قرآن مجید کی سب سے معروف، عظیم وجلیل سورہ الفاتحہ کو پیش کر رہاہوں جو اعمال صالحہ کے وسیلہ پر شافی ووافی دلیل ہے۔

پہلی دلیل: {الحمد للہ رب العالمین إلی غیر المغضوب علیھم ولا الضالین} اس سورہ کی ابتدائی چار آیتیں اللہ کی حمد، اس کی ثناء، بزرگی اور عبادت واستعانت کو اللہ کے ساتھ خاص کر نے پر دلالت کر تی ہے اس کے بعد ہی بندہ اللہ سے صراط مستقیم کی طرف ہدایت کی دعاء مانگتا ہے اس سلسلے میں بھی احادیث نبویہ کثرت سے وارد ہیں۔

(1) حضرت عبد اللہ بن عباس کا بیان ہے کہ رسول اللہ جب تہجد کی نماز کے لئے اٹھتے تھے تو یہ دعاء فرماتے تھے: اللھم ربنا ولک الحمد أنت قیم السمٰوات والأرض ومن فیھن إلی اللھم لک أسلمت وبک آمنت وعلیک توکلت وإلیک أنبت وبک خاصمت وإلیک حاکمت فا غفرلی ما قدمت وما أخرت وما أسررت وما أعلنت، وما أنت أعلم بہ منی، أنت المقدم وأنت المؤخر لا إلہ إلا أنت۔ (البخاری: التوحید، باب قول اللہ تعالیوجوہ یومئذ ناضرۃ إلی ربھا ناظرۃ برقم: 7442، ومسلم: صلاۃ المسافرین، باب صلاۃ النبی ودعائـہ باللیل، برقم (201 / 1812) اس طویل نورانی دعاء میں رسول اللہ نے اللہ کی صفات، اس کے اسماء حسنیٰ اور اعمال صالحہ کا وسیلہ اپنی دعاء کے پہلے پیش کیا، اس طرح اس دعاء میں دو ہرا وسیلہ ہے، صفات الہی اور اسماء حسنیٰ اور اعمال صالحہ کا۔

مشروع وسیلہ کی تیسری قسم: اپنے زندہ صالح مؤمن بھائی کی دعاء کا وسیلہ

1 { وماأرسلنا من رسول إلا لیطاع بإذن اللہ ولو أنھم إذ ظلموا أنفسھم جاء وک فاستغفروا اللہ} (سورۃ النساء: 64)

2 - برادران یوسف کا اپنے والد کی دعاء کو وسیلہ بنانا: {قالوا یا أبانا استغفر لنا ذنوبنا إنا کنا خاطئین قال سوف أستغفر لکم ربي إنہ ھو الغفور الرحیم} یہ آیت کریمہ اس بات کو واضح کر رہی ہے کہ مومن کا اپنے مومن بھائی کی دعاء کو اپنے لئے وسیلہ بنانا ہم سے پہلی امتوں میں بھی رائج تھا۔

حدیث کی روشنی میں: حضرت جابر بن عبد اللہ فرماتے ہیں کہ آنحضور نے فرمایا کہ جو شخص اذان سننے کے بعد کہے گا: اللھم رب ھذہ الدعوۃ التامۃ إلی وابعثہ مقاما محمودا الذی وعدتہ حلت لہ شفاعتی۔ (البخاری: الأذان، باب الدعاء عند الندائ، برقم: (614)

اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین بارش طلب کر نے کے لئے رسول اللہ کی زندگی میں آپ کی دعاء کو وسیلہ بناتے تھے۔ اس سلسلہ میں حضرت انس وغیرہ کی حدیث دلیل میں پیش کی جاسکتی ہے، جس میں ہے کہ لوگوں نے رسول اللہ سے بارش رک جانے کی شکایت کی تو آپ نے اللہ کی حمد وثناء کے بعد اللہ سے بارش کی دعاء کی تو اللہ تعالیٰ نے بارش نازل فرمائی۔ اسی طرح حضرت انس کی حدیث میں ہے کہ ایک دیہاتی آکر بارش کی شکایت کی تو آپ نے اس کی شکایت پر اللہ سے بارش کی دعاء کی۔ (البخاری: الاستسقاء، باب الاستسقاء علی المنبر، برقم: (1015)، ومسلم: الاستسقاء، باب الدعاء فی الاستسقاء، برقم (2078)

معلوم ہوا کہ بارش کے لئے صحابہ کرام آپ کی دعاء کو وسیلہ بناتے اور اللہ تعالیٰ اپنے نبی کی دعاء کو قبول کر تا۔ ان احادیث میں کہیں بھی نہ آپ کی جاہ، نہ مرتبہ ، نہ ذات ، نہ منصب نہ شخصیت کے وسیلہ کا اشارہ ہے، بلکہ صرف آپ کی دعاؤں کے وسیلہ کا ذکر ہے۔ اسی لیے آں حضرت کی وفات کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے آپ کا وسیلہ ترک کر دیا۔

اوپر کی باتوں سے معلوم ہوا کہ آنحضور جب تک باحیات تھے، صحابہ کرام استسقاء اور دوسری ضروریات کے لئے آپ ہی کی دعاء کو وسیلہ بناتے تھے، لیکن جب آپ وفات پاگئے اور رفیق اعلیٰ سے جاملے تو قحط سالی اور دوسری آفات کے موقع پر ان حضرات کو دعاء کے لئے تلاش کر تے تھے جن کے زہد و تقویٰ اور صلاح وسیرت پر سب کا اعتماد ہوتا تھا ، چنانچہ معلوم ہوا کہ آپ سے زیادہ صاحب زہد وورع اور کون ہو سکتا تھا؟ اس لئے آپ کی زندگی میں تو صحابہ کرام آپ کی دعاء کا وسیلہ لیتے تھے لیکن آپ کی وفات کے بعد آپ سے دعاء کی درخواست ممکن ہی نہ تھی ، اس لئے کہ انسان جب مرجاتا ہے تو اس کا عمل ختم ہوجاتا ہے اور دعاء بلا شبہ عمل اور عبادت ہے جس کا کرنا موت کے بعد ممکن نہیں۔ چنانچہ حضرت عمرؓ اپنی خلافت کے زمانہ میں آنحضور کے چچا حضرت عباس سے استسقاء کے لیے دعاء کی درخواست کر تے تھے۔ جیسا کہ حضرت انس سے روایت ہے کہ جب قحط پڑتا تو حضر ت عمر ؓ، حضرت عباس ؓ سے دعاء کی درخواست کرتے ہوئے فرماتے تھے۔ اللھم کنا نتوسل إلیک بنبینا فتسقینا وانا نتوسل إلیک بعم نبینا فاسقنا ، قال فیسقون۔( البخاری: الاستسقائ، باب سوال الناس الإمام الاستسقاء إذا قحطوا ، برقم: 1010، مسلم: الاستسقائ، باب الدعاء فی الاستسقاء ، برقم: 2078)

اس روایت سے ثابت ہوا کہ حضرت عمر ؓ نے آنحضور کی وفات کے بعد آپ کے چچا حضرت عباس ؓ کو وسیلہ بنا کر بارش کی دعا کرائی اور صحابہ میں سے کسی نے بھی حضرت عمر ؓ کے اس عمل پر اعتراض نہیں کیا ،کیونکہ سب کو اس بات کا علم تھا کہ استسقاء کے لئے وسیلہ دعاء ہی کے ذریعہ ممکن تھا، جب تک آپ زندہ تھے، آپ دعاء فرمایا کر تے تھے، آپ کی وفات کے بعد یہ ممکن ہی نہیں رہا کہ آپ سے دعاء کرائی جائے اور آپ کی جگہ کسی دوسرے کو تلاش کر نا ضروری تھا ، اور حضرت عمر نے آپ کے چچا حضرت عباس کو اس کے لئے منتخب کیا۔

مشروع وسیلے کے اقسام کو میں نے آپ کے سامنے دلائل کی روشنی میں پیش کر دیا۔ ان مشروع وسیلے کے علاوہ وسیلے کے جتنے بھی اقسام آج دنیا میں رائج ہیں وہ سب ناجائز اور حرام ہیں۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو (مشروع او رممنوع وسیلہ کی حقیقت ، از: محمد نسیب الرفاعی ، الوسیلہ : علامہ ابن تیمیہ اور حقیقۃ التوسل والوسیلہ)

 

 

دارالإفتاء

جامعہ سلفیہ(مرکزی دارالعلوم)

بنارس