دعوتی کام کو بحسن وخوبی انجام دینے کے لیے تنظیم بنانا جائز ہے

 

کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ:

معلوم ہوکہ ہمارے یہاں کیرلا میں تنظیم کو لے کرایک مسئلہ کھڑا ہو گیا ہے کچھ حضرات کا کہنا ہے کہ دین کی دعوت کے لئے تنظیم بنانا ناجائز ہے کیونکہ تنظیم کے ذریعہ حزبیت، فرقہ پرستی اور تقلید پیدا ہوتی ہے، اسی طرح کسی بھی رسول اور صحابہ کرام نے کبھی کوئی تنظیم نہیں بنائی۔ لہذا دین کی دعوت کے لئے تنظیم بنانا بدعت ہے کیونکہ دعوت توقیفی ہوتی ہے اور اس طرح کی تنظیم میںداخلہ کے وقت ممبروں سے تنظیم کے امور بحسن وخوبی انجام دینے کے لئے حلف وعہدوپیمان لیتے ہیں، حالانکہ حلف لینا رسول اور صحابہ سے ثابت نہیں ہے اور کچھ لوگ کہتے ہیں جائز ہے تو کیا ایسی تنظیم جس میںصدر، سکریٹری اور خزانچی وغیرہ ہوں، اس طرح کی تنظیم بنانے کے لئے قرآن وحدیث میں کوئی دلیل ہے؟ جس کے ذریعہ ثابت ہوتا ہو کہ ایسی تنظیم بنانا جائز ہے؟ مفصل جواب درکار ہے۔ عند اللہ ماجورہوں۔

 

الجواب بعون اللہ الوھاب وھوالموفق للصواب:

صورت مسئولہ میں واضح ہونا چاہئے کہ دین اسلام کے قیام وبقا کے لئے امر بالمعروف والنہی عن المنکر ضروری ہے، اس کو دعوت وتبلیغ کا نام دیا جا تا ہے اس کے فروغ واشاعت کے لئے مختلف اسالیب وطریقے ہیں جن کو بروئے کار لا کر ہی اس کا پورا حق ادا کیا جا سکتا ہے۔ دین کے غلبے اور دفاع کے لئے جدوجہد ، خواہ جہاد بالسیف کی شکل میںہو کہ جہاد بالقلم واللسان کی صورت میں او ران تمام امور کو منظم صورت میں انجام دینے کے لئے تنظیم کا قیام از حد ضروری ہے اور اس کے ثبوت کے لئے بہت سے دلائل ہیں من جملہ ان دلائل کے نماز ہی کو مثال کے طور پر لیجئے ، اسے صحیح وقت اور صحیح شکل میں ادا کرنے کے لئے امام کا انتخاب اور بہتر امام کا انتخاب، پھر مؤذن کا انتخاب او ر صف بندی میںاکبر واصغر کا لحاظ کیا یہ ساری چیزیں اس بات کی دلیل نہیں کہ نماز کو بحسن وخوبی ادا کر نے کے لئے پسندیدہ ذمہ داروں کو چننا ضروری ہے۔

اسی طرح جہاد بالسیف کو لیجئے کہ اس کے لئے امام وامیر، خلیفہ اور عام مسلمانوں میں جیوش اسلامیہ کو منتخب کرنا اور ان میں چھوٹے بڑے ذمہ داروں کو منتخب کر کے امر بالمعروف والنہی عن المنکر کے فریضہ کو انجام دینے کے لئے کیا تنظیم ضروری نہیں؟ یہ چیز دور نبوی اور ادوار خلفائے راشدین اور دوسرے ملوک کے زمانے میںپائی جاتی ہے۔ یہ ایسی تاریخی حقیقت ہے کہ اس کا انکار کرنا مثل سورج کا انکار کرنا ہے۔

اسی طرح زکوۃ کا مسئلہ ہے۔ اس کو وصول کر نے کیلئے محصل، محاسب اور تقسیم کرنے والے کا انتخاب سارے اسلامی ادوار میں پایا جا تا رہا ہے، بلکہ اسلام کا کوئی بھی اہم کام ہو، اس میںانتظام کی جھلک ضرورنظر آتی ہے، اس لئے حافظ ابن تیمیہ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ: وکل بشر علی وجہ الأرض فلابد لہ من أمر ونھي ولابد أن یأمر وینھی حتی لو أنہ وحدہ لکان یأمر نفسہ وینھاھا اما بمعروف وإما بمنکر کما قال تعالیٰ : إن النفس لأمارۃ بالسوء (یوسف: ۳۵) فإن الأمر ھو طلب الفعل وارادتہ والنھی طلب الترک وارادتہ ولابد لکل حي من ارادۃ وطلب فی نفسہ یقتضی بھما فعل نفسہ ویقتضی بھما فعل غیرہ إذا أمکن ذلک فإن الإنسان حي یتحرک بارادتہ، وبنو آدم لا یعیشون إلا باجتماع بعضھم مع بعض وإذا اجتمع اثنان فصاعداً فلابد أن یکون بینھما ائتمار بامر وتناہ عن أمر ولھذا کان أقل الجماعۃ فی الصلوۃ اثنین کما قیل: الاثنان فما فوقھما جماعۃ لکن لما کان ذلک اشتراکا فی مجرد الصلوۃ حصل باثنین احدھما امام والآخر مأموم کما قال النبی لمالک بن الحویرث وصاحبہ إذا حضرت الصلوۃ فأذنا وأقیما ولیؤمکما أکبرکما وکانا متقاربین فی القرأۃ واما الأمور العادیۃ ففی السنن أنہ قال لا یحل لثلاثۃ یکونون فی سفر إلا أمروا علیھم أحدھم۔ (مجموع الفتاوی: 28 / 168، 169)

اس عبارت کا مطلب مختصر طور پر یہ ہے کہ انسان مدنی الطبع ہے اور یہ باہم ملک کر ہی زندگی بسر کر سکتا ہے اور ایسی صورت میں کوئی آمر ہوگا اور کوئی مأمور۔ چنانچہ نبی کے زمانے سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ اگر کوئی سفر میںہوتب بھی ایک مقتدی ہوگا اور دوسرا امام یا یوں کہئے کہ اگر سفر میں تین ہوں تو ان میں ایک امیر ہو۔ بہرحال شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی اس تحریر سے ثابت ہوگیا کہ تنظیم بنانا اور اس کے لئے ذمہ دار منتخب کر نا بدعت نہیں بلکہ مسنون اور ضروری ہے۔ جو حضرات بدعت کہتے ہیں وہ نصوص قرآن وحدیث سے نابلد ہیں۔ جو چیز دور نبوی سے چلی آرہی ہے اور آج تک کسی نے انکار نہیں کیا بلکہ اس کی ضرورت کا سب کو احساس ہے اسے بدعت کیسے قرار دیا جا سکتا ہے۔ میںکہتاہوں کہ اگر تنظیم کا ثبوت کتاب اللہ ، سنت رسول اور اسلاف کے عمل سے نہ ہوتا پھر بھی یہ بدعت نہیں ہوسکتا ہے۔ اس لئے امر بالمعروف والنہی عن المنکر کو حسب استطاعت اسلام نے تمام مسلمانوں پر ضروری اور واجب قرار دیا ہے اور اس حکم الہی کو بحسن وخوبی تنظیم کی صورت میں ادا کیا جا سکتا ہے تو کیا ایسی شکل جس سے حکم الہی کی تعمیل اچھے طور پر انجام دیا جائے اورجس کی کوئی قید شریعت میں نہ آئی ہوکیا بدعت ہو جائے گی۔ ہر گز نہیں۔ اس لئے آپ دیکھتے ہیں کہ علم دین کی نشر واشاعت کے لئے نہ جانے کتنے مدارس ومکاتب اور یونیورسٹیاں عالم اسلام میں قائم ہیں۔ ان میں صدر ، نظماء اور محاسبین اور نہ جانے کتنے ذمہ دار حضرات پائے جاتے ہیں اور ان اداروں کو چلانے میں مصروف ومشغول ہیں ۔ بتائیے یہ دعوت وتبلیغ نہیں ہے؟ ضرور ہے۔ اس شکل کو آج کوئی بدعت قرار نہیں دے سکتا، کیونکہ منشا علم دین کی تبلیغ ہے اور شارع کو یہی مطلوب ومقصود ہے۔ اس کی ظاہری شکل یقینا دور نبوی میں ہو بہو نہیں۔ پھر بھی تمام لوگ اجماعی طور پراس پر کار بند وعامل ہیں۔ تنظیم کو بدعت کہنے والے بھی اور دوسرے حضرات بھی ۔ حاصل کلام یہ ہے کہ تنظیم کو بدعت قرار دینا بذات خود ایک نئی بدعت ہے۔ ایسی باتوں سے ہمیںمحفوظ رہنا چاہیے۔

ہاں اگر تنظیم برائے تنظیم ہو، مقصود اصلی دعوت دین اور تبلیغ اسلام نہ ہو بلکہ حصول زر اور جاہ ومنصب ہو تو یہ بہت ہی خراب ہے اور اگر جدید تنظیم سے مقصود وغرض باہمی افتراق وانتشار ہو تو بے حد خراب اورجرم عظیم ہے اللہ سے دعاء ہے کہ ہم تمام مسلمانوں کو دین اسلام کا مخلص خادم بنائے اور جب تک زندہ رکھے اسی کی خدمت میںلگائے رکھے۔

 

 

دارالإفتاء

جامعہ سلفیہ(مرکزی دارالعلوم)

بنارس