مال مستفاد کی زکوۃ اصل مال کے ساتھ نکالی جائے گی

 

کیا فرماتے ہیں علما ء دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ:

زکوۃ کی شرائط میں سے ایک شرط حولان حول ہے ایک تاجر اپنے مال کی زکوۃ ہر سال رمضان کے مہینہ میں نکالتا ہے اب سوال یہ ہے کہ اگر درمیان مدت میں اس کی پونجی میں اضافہ ہو جا تا ہے خواہ وہ موجودہ مال تجارت کے منافع سے یا کسی دیگر سبب سے تو وہ اس زائد مال کی زکوۃ کب نکالے گا؟ اگر حولان حول پر نکالے گا تو چونکہ اضافہ ٔ مال کاعمل کچھ وقفہ سے برابر جاری رہتا ہے تو گویا وہ سال بھر زکوۃ ہی کا حساب کرتا رہے، یہ ایک پریشان کن مسئلہ ہے اور اگر صرف رمضان میں نکالتا ہے تو مال کے کسی حصہ کی زکوۃ پر حولان حول کی شرط سے زائد مدت گذر جائے گی اور کسی حصہ پر مدت پوری بھی نہیں ہوگی۔ ایسی صورت میں وہ کیا کرے برائے مہربانی وضاحت فرمائیں۔

 

الجواب بعون اللہ الوھاب وھوالموفق للصواب:

وہ مال جو تجارت میںمنافع کے ذریعہ اضافہ ہوا یا وراثتاً وھبۃً مل گیا ہو، اس کو اصل مال کے ساتھ ضم کر کے اس کی زکوۃ اسی وقت نکالی جائے گی جو اصل مال کا وقت ہے یعنی اگر آپ اپنے موجودہ مال کی زکوۃ رمضان شریف میں حولان حول ہوجانے پر نکالتے ہیں تو درمیان سال میں اضافہ شدہ مال کی زکوۃ بھی اصل مال کے ساتھ رمضان میں نکالیں، درمیان میں اس طرح کے اضافہ شدہ مال کو مال مستفاد کہتے ہیں۔

صاحب مرعاۃ لکھتے ہیں: ان یکون المستفاد من نمائہ کربح مال التجارۃ ونتاج السائمۃ فھذا یجب ضمہ إلی ما عندہ من اصلہ فیعتبر حولہ بحولہ لانعلم فیھا خلافاً(مرعاۃ المفاتیح 6 / 45)

)مال مستفاد تجارت کا نفع یا چراگاہ میں چرنے والے جانور کے بچے ہوں تو ان کو اصل مال کے ساتھ ملایا جائے گا اور ان کے سال گذرنے کا اعتبار بھی اصل ہی کے ساتھ کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں ہم علماء کا کوئی اختلاف نہیں جانتے ہیں)۔

اسی طرح رد المحتار میں ہے: والمستفاد ولو بھبۃ أو ارث وسط الحول یضم إلی نصاب من جنسہ فیزکیہ بحول الأصل۔( الدر المختار فی شرح تنویر الابصار ص 100)

لہذا دوران سال میں موصول ہونے والی رقم خواہ منافع کے ذریعہ ہو یا کسی دیگر سبب سے سابق نصاب کے ساتھ شمارکی جائے گی اور اس کی زکوۃ بھی اسی سال رمضان میں ادا کر نی ہوگی اگر چہ مستقلاً اس پر اب تک سال نہیں گزرا ہے۔

 

 

دارالإفتاء

جامعہ سلفیہ(مرکزی دارالعلوم)

بنارس