کیا انسان کے اعضاء وجوارح اللہ کے مثل ہیں؟

 

کیا فرماتے ہیں علماء دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ:

ایک شخص یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ انسان کے اعضاء وجوارح اللہ تعالیٰ کے مثل ہیں۔ اس کی دلیل میں یہ حدیث پیش کرتا ہے۔ ہم نے بنی آدم کو اپنی شکل و صورت میں پیدا کیا ہے، اور دوسری حدیث بھی جو اس معنی کی ہیں، پیش کرتا ہے۔

قرآن و حدیث کی روشنی میں اس کا جواب دے کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں۔

 

الجواب بعون اللہ الوھاب وھوالموفق للصواب:

اللہ تبارک و تعالیٰ کے اعضاء و جوارح مثل انسان کے نہیں ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:لیس کمثلہ شیٔ وھوالسمیع البصیر۔ (الشوریٰ: 11) یعنی اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرح کوئی بھی چیز نہیں، وہ سننے والا دیکھنے والا ہے ، یہ آیت کریمہ واضح طور پر دلالت کرتی ہے کہ کوئی بھی مخلوق اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرح نہیں ہے۔

لہٰذا مذکورہ عقیدہ رکھنا سراسر خلاف نصوص اور آیت مذکورہ کے منافی ہونے کے ساتھ ساتھ جمہور امت کے موقف کے بھی خلاف ہے اور بدعی عقیدہ ہے، اور قائل نے جو مذکورہ عقیدہ کی دلیل پیش کی ہے اس کے الفاظ یہ ہیں:خلق اللہ آدم علی صورتہ۔ (البخاری: الاستئذان باب بدء السلام برقم 6227 ومسلم: الجنۃ ونعیمھا باب یدخل الجنۃ اقوام افئدتھم مثل افئدۃ الطیر برقم 7163) یہ حدیث صحیح بخاری وصحیح مسلم اور دیگر کتب حدیث میںموجود ہے،واضح ہو کہ علی صورتہ میں (ہٖ) کی ضمیر اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف لوٹانا صحیح نہیں ہے اور یہ محل نظر ہے، ابن حبان اور حافظ ابن حجر اور امام نووی اور البانی وغیرھم رحہم اللہ نے ضمیر کو آدم ہی کی طرف لوٹایا ہے، ایسی صورت میں حدیث کا ترجمہ یوں ہوگا، اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو اسی کی شکل میں پیدا کیا نہ کہ اپنی طرح، یعنی اولاد کی تخلیق وپیدائش مختلف مراحل سے گذر کر ہوتی ہے، لیکن حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق بدون مراحل ہوئی ہے۔

حافظ ابن حجرؒ فتح الباری (6 / 366) میں رقمطراز ہیں کہ وفی روایتہ خلق اللہ آدم علی صورتہ وطولہ ستون ذراعا، وھذہ الروایۃ تؤید من قال ان الضمیر لآدم، والمعنی ان اللہ تعالیٰ اوجدہ علی الھیئۃالتی خلقہ علیھا، لم ینتقل فی النشأۃ أحوالا و لا تردد فی الأرحام اطوارا کذریتہ بل خلقہ اللہ تعالیٰ رجلا کاملا سویا من اول ما نفخ فیہ الروح، ثم عقب ذلک بقولہ وطولہ ستون ذرعا فعاد الضمیر ایضا علی آدماس سے بھی زیادہ تفصیل کے ساتھ حافظ ابن حجرؒ نے فتح الباری: 11 / 3 میں لکھا ہے ۔

اور اگر ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف لوٹائی جائے تو بھی وہ مفہوم نہیں ہوگا جو لیا جارہا ہے، کیونکہ اس صورت میں صورت کا مفہوم صفت کا ہوگا، یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم ؑ کو علم ، حلم اور دیگر اوصاف کے ساتھ پیدا کیا، حالانکہ یہ اوصاف اللہ تعالیٰ کے اوصاف کی طرح نہیں ہیں۔ یہ معنی لینا اس لئے بھی ضروری ہے تاکہ ارشاد باری تعالیٰ لیس کمثلہ شیٔ کی مخالفت لازم نہ آئے، بہر حال صحیح بات تو یہی ہے کہ ضمیر اللہ تعالیٰ کے بجائے آدم ہی کی طرف لوٹائی جائے۔

اور اگر ان احادیث سے مراد خلق اللہ آدم علی صورۃ الرحمن ہے جیسا کہ حافظ ابن حجرؒ نے فتح الباری ۱۱/۳ میں اس روایت کے بعض طرق کی طرف اشارہ فرمایا ہے اور اس روایت کو بغیر کلام کے پیش فرمایا ہے تو اس بارے میں عرض یہ ہے کہ یہ حدیث منکر ہے کما قال الالبانی فی الضعیفۃ (1176، 1175).

چونکہ اس طرح عقیدہ رکھنے والے کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت و دلیل نہیں ہے، اس لئے یہ عقیدہ رکھنا سراسر غلط ہے۔ اور اس طرح عقیدہ رکھنے والوں کو محدثین کرام و ائمہ دین نے مشبہہ کہہ کر بدعتی فرقہ قرار دیا ہے۔

 

دارالإفتاء

جامعہ سلفیہ(مرکزی دارالعلوم)

بنارس