رکوع کے بعد سینہ پر ہاتھ باندھنا

 

کیا فرماتے ہیں علما ء دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ:

نماز میں رکوع کے بعد سینے پر ہاتھ باندھنا کیسا ہے؟ اگر کوئی امام باندھے تو کیا مقتدی حضرات بھی ایسا ہی کریں گے۔

کتاب و سنت کی روشنی میں جواب تحریر فرمائیں۔

 

الجواب بعون اللہ الوھاب وھوالموفق للصواب:

اصل ارسال (ہاتھ نہ باندھنا) ہے اور اس اصل کے خلاف کوئی صحیح صریح حدیث نہیں، اسلئے شیخ ناصرالدین البانیؒ نے اس کو بدعت قرار دیا ہے، رقمطراز ہیں:ولست اشک فی أن وضع الیدین علی الصدر فی ھذالقیام بدعۃ ضلالۃ لأنہ لم یرد مطلقا فی شی من احادیث الصلوۃ- وما اکثرھا- ولوکان لہ اصل لنقل الینا ولوعن طریق واحد، یؤیدہ ان احدا من السلف لم یفعلہ ولا ذکرہ احد من ائمۃ الحدیث فیما أعلم،(حاشیۃ صفۃ صلوۃ النبی ص: 120)

یعنی مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ اس قیام میں سینہ پر ہاتھ باندھنا بدعت و گمراہی ہے، کیونکہ نماز سے متعلق احادیث میں سے کسی میں بھی مطلقاً اس کا ذکر نہیں ہے، اگر اس کی کوئی اصل ہوتی تو ہمارے پاس ضرور نقل ہوکر آتی، خواہ ایک ہی طریق سے، اور اس کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ سلف میں سے کسی نے بھی ایسا نہیں کیا، اور نہ ہی ائمہ حدیث میں سے کسی نے اس کا تذکرہ کیا ہے۔

اور جن احادیث میں بوقت قیام ہاتھ باندھنے کا ذکر ہے اس سے مراد قیام قبل الرکوع ہے، کیونکہ قیام سے مراد قرأت والا قیام ہے،جیساکہ شیخ الحدیث عبید اللہ رحمانی مبارکپوریؒ نے مرعاۃ شرح مشکاۃ میں اس کی تحقیق پیش فرمائی ہے(مرعاۃ المفاتیح ۳/۳۶) اور اگر اسے مطلق ہی مان لیا جائے اور اس سے مراد قیام قبل الرکوع اور بعدہ لیا جائے تب بھی ان احادیث مطلقہ کو مقیدہ کے ذریعہ مقید کرلیا جائے، اس لئے کہ قاعدہ ہے کہ مطلق کو مقید پر محمول کیا جاتا ہے۔ بہر حال میرے نزدیک بعدالرکوع ارسال ہی اقرب الی الصواب ہے۔

لیکن کچھ علماء کرام جیسے شیخ ابن باز ؒ وغیرہ رکوع کے بعد بھی سینے پر ہاتھ باندھنے کے قائل ہیں۔ لیکن میرے نزدیک دلیل و برھان کے اعتبار سے پہلا ہی قول صحیح ہے۔ اس لئے اگر امام اپنی تحقیق کے مطابق بعدالرکوع سینہ پر ہاتھ باندھتا ہو اور مقتدیوں کی بھی تحقیق وہی ہو تو امام کی اس میں پیروی کریں گے ورنہ نہیں۔

 

دارالإفتاء

جامعہ سلفیہ(مرکزی دارالعلوم)

بنارس