قرآن خوانی اور ایصال ثواب

 

 

میت کے نام قرآن خوانی کی مشروعیت اور عدم مشروعیت کے سلسلہ میں ائمہ کرام کا اختلاف ہے ، اس بارے میں قول فیصل یہ ہے کہ مردہ کے لئے قرآن خوانی غیر مشروع اور بدعت ہے ، اس لئے کہ اس کا ثبوت نہ کتاب اللہ سے ہے نہ سنت صحیحہ سے اور نہ اجماع سے او رنہ قیاس سے اور جو چیز ایسی ہوتی ہے وہ بدعت ہوتی ہے لہذا میت کے ایصال ثواب کے لئے قرآن خوانی بدعت ہے، نبی کریم کا ارشاد ہے: من أحدث في أمرنا ھذا مالیس منہ فھو رد (البخاری کتاب الصلح باب إذا اصطلحوا علی صلح جور فالصلح مردود، برقم: 2697 ومسلم کتاب الأقضیۃ باب نقض الأحکام الباطلۃ ورد محدثات الأمور، برقم: 4493) جس نے ہماری اس شریعت میں کوئی نئی بات پیدا کی جو اس سے نہ تھی وہ مردود ہے۔ مسلم کی روایت میں یوں ہے کہ من عمل عملا لیس علیہ أمرنا فھو رد یعنی جس نے ایسا کام کیا جس پر ہمارا عمل نہ ہو وہ مردود ہے۔ اور صحیح مسلم میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپ نے خطبۂ جمعہ میں فرمایا:أما بعد فان خیر الحدیث کتاب اللہ، وخیر الھدی ھدی محمد وشر الأمور محدثاتھا وکل بدعۃ ضلالۃ(الجمعۃ باب تخفیف الصلوٰۃ والخطبۃ، برقم: 2005) یعنی اما بعد! بیشک بہترین حدیث اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور بہترین راہ محمد کی راہ ہے اور سب سے برا کام دین میں نئی ایجادات ہیں اور ہر بدعت گمراہی ہے اور نسائی میں یہ اضافہ ہے : وکل ضلالۃ في النار (سنن نسائی، کتاب صلاۃ العیدین ، باب کیف الخطبۃ، ح: 1578، علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس زیادتی کو صحیح کہا ہے) اور ہر گمراہی کی سزا جہنم ہے ، اسی طرح قرآن خوانی کا ثواب مردہ کو پہنچتا ہے کہ نہیں ۔ اس مسئلہ میں بھی ائمہ کرام کا اختلاف ہے جیسا کہ اشارہ کر چکاہوں اور مزید تفصیل ذیل میں ملاحظہ کریں۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ مجموع الفتاوی 24 / 315 میں لکھتے ہیں: وأما الصیام عنہ وصلاۃ التطوع عنہ وقراء ۃ القرآن عنہ، فھذا فیہ قولان للعلماء أحدھما: ینتفع بہ، وھو مذھب أحمد وأبی حنیفۃ وغیرھما وبعض أصحاب الشافعي وغیرھم، والثانی: لاتصل إلیہ، وھو المشھور في مذھب مالک والشافعي یعنی میت کی طرف سے روزہ رکھنا، نفلی نماز پڑھنا اور قرآن کریم کی تلاوت کر نا اس مسئلہ میں علماء کرام کے دو قول ہیں، امام احمد، ابوحنیفہ اور بعض شوافع وغیرہم کا مسلک ہے کہ میت کو ان کا ثواب پہنچتا ہے اور دوسرا مذہب امام مالک اور امام شافعی وغیرھما کا ہے کہ ان سے میت کو فائدہ نہیں پہونچتا ہے۔

اورملا علی قاری شرح فقہ اکبر(ص: 196 - 197) میں لکھتے ہیں کہ : اختلف العلماء في العبادات البدنیۃ کالصوم والصلاۃ وقراء ۃ القرآن والذکر فذھب أبو حنیفۃ وأحمد وجمھور السلف إلی وصولھا والمشھور من مذھب الشافعي ومالک عدم وصولھا یعنی عبادات بدنیہ جیسے روزہ، نماز اورقراء ت قرآن اور ذکر کے ثواب پہنچنے میں علماء کا اختلاف ہے امام ابو حنیفہ ، امام احمد اور جمہور سلف کا مذہب یہ ہے کہ عبادات بدنیہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے اور مذہب امام شافعی اور امام مالک کا یہ ہے کہ نہیں پہنچتا ہے۔

یہ ائمہ کرام کا اختلاف جو آپ کے سامنے پیش کیا گیا لیکن اس شق میں میرا نقطۂ نظر وہی ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب میت کو نہیں پہنچتا ہے اور ثبوت میں جو دلائل پیش کئے جاتے ہیں وہ تار عنکبوت سے بھی کمزور ہیں۔ ہم ان علماء کرام کے اقوال وآراء پیش کر تے ہیں جو اس بات کے قائل ہیں کہ قرأت قرآن کا ثواب مردہ کونہیں پہنچتا۔

مولانا عبد الرحمن صاحب محدث مبارکپوری رحمہ اللہ نے کتاب الجنائز، ص: 107 108 میںتحریر فرمایا ہے کہ تلاوت قرآن اور نماز ، روزہ وغیرہ کا ثواب میت کو پہنچنا کسی حدیث صحیح سے ثابت نہیں اور جو روایتیں عبادات بدنیہ کا ثواب پہنچنے کے بارے میں نقل کی جاتی ہے وہ ضعیف ہیں۔ نیز فرمایا کہ اکثر احناف میں ثواب رسانی کی یہ صورت بہت جاری ہے کہ کسی حافظ کونوکر رکھ کر یا کچھ اجرت دے کر میت کے واسطے قرآن پڑھاتے ہیں سو اس صورت سے میت کو ثواب نہیں پہنچتا ہے ۔ فقہائے حنفیہ لکھتے ہیں کہ: اس صورت میں نہ میت کو ثواب پہنچتا ہے اور نہ قرآن پڑھنے والے اور پڑھانے والے کو ثواب ملتا ہے بلکہ یہ پڑھنے والے اور پڑھانے والے دونوں گنہگار ہوتے ہیں۔

حضرت شیخ الحدیث علامہ عبید اللہ صاحب مبارکپوری رحمہ اللہ مرعاۃ 5 / 453 میں لکھتے ہیں کہ: وإلیہ یمیل قلبي فإنہ لم یقم علی اھداء ثواب القرأۃ دلیل شرعي لا من قرآن ولامن سنۃ صریحۃ صحیحۃ ولامن اجماع ولایکفی في مثل ھذہ المسألۃ حدیث ضعیف أو أثر صحابي فضلا عن القیاس أو أثر التابعي ومن دونہ، وقد صرح ابن القیم الذي ھو قائل بوصول ثواب القراء ۃ إلی المیت فانہ لم یصح عن السلف شیٔ في ذلک یعنی قرآن پڑھ کر میت کو ثواب پہنچانے کے بارے میں کوئی دلیل شرعی موجود نہیں ہے اس کا ثبوت نہ قرآن سے ہے اور نہ کسی صریح حدیث سے اور نہ اجماع سے اور اس جیسے مسئلہ میں ضعیف حدیث یا اثر صحابی یا قیاس کفایت نہیں کر سکتا، حافظ ابن القیم جو میت کو ثواب رسانی کے قائل ہیں وہ فرماتے ہیں کہ: سلف سے اس سلسلہ میں کچھ بھی صحیح منقول نہیں ہے۔

شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں : لم یکن من عادۃ السلف إذا صلوا تطوعاً وصاموا وحجوا أو قرأوا القرآن یھدون ثواب ذلک لموتاھم المسلمین، ولا لخصوصھم، بل کان عادتھم کما تقدم فلا ینبغي للناس أن یعدلوا عن طریق السلف فانہ أفضل وأکمل( مجموع الفتاویٰ 24 / 323، مرعاۃ 5 / 354) یعنی سلف کی یہ عادت نہ تھی کہ وہ جب نفل نماز ادا کر تے اور روزہ رکھتے اور حج کر تے اور قرآن کی تلاوت کر تے تو وہ اس کے ثواب کو اپنے مردے مسلمان کیلئے ہدیہ بھی کرتے ہوں اس لئے لوگوں کے لئے یہ مناسب نہیں کہ وہ سلف کی اس روش سے روگردانی کریں کیونکہ ان کا طریقہ ہی افضل اور کامل ترین ہے۔ مفسر ابن کثیر رحمہ اللہ نے اس بارے میں سورہ نجم کی آیت : {وأن لیس للإنسان إلا ما سعی} کی جو تفسیر کی ہے وہ بہت اہم ہے ،ہم ذیل میں نقل کرتے ہیں: أي کما لا یحمل علیہ وزر غیرہ کذلک لا یحصل من الأجر إلا ما کسب ھو لنفسہ ومن ھذہ الآیۃ الکریمۃ استنبط الشافعي رحمہ اللہ ومن تبعہ أن القرأۃ لا یصل اھداء ثواب بھا إلی الموتی لأنہ لیس من عملھم ولاکسبھم ولھذا لم یندب إلیہ رسول اللہ أمتہ ولاحثھم علیہ ولا أرشدھم إلیہ بنص ولا إیماء ولم ینقل ذلک عن أحد من الصحابۃ رضي اللہ عنہم ولوکان خیرا لسبقونا إلیہ وباب القربات یقتصر فیہ علی النصوص ولا یتصرف فیہ بأنواع الأ قسیۃ والأراء فأما الدعاء والصدقۃ فذلک مجمع علی وصولھما ومنصوص من الشارع علیھما (تفسیر ابن کثیر 4 / 328)

یعنی جس طرح کوئی کسی دوسرے کے گناہ کا ذمہ دار نہ ہوگا اسی طرح اسے آخرت میں اجر بھی انہی چیزوں کا ملے گا جن میں ان کی اپنی محنت ہوگی۔

اس آیت کریمہ سے امام شافعی اور ان کے متبعین نے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مردوں کو پہنچایا جائے تو پہنچتا ہی نہیں اس لئے کہ یہ تو نہ ان کا عمل ہے نہ کسب ومحنت، یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ نے اپنی امت کو مردوں کے لئے قرآن خوانی کی ترغیب دی نہ کسی نص یا اشارۃ النص سے اس کی طرح رہنمائی فرمائی۔ اس طرح صحابہ کرام سے بھی یہ منقول نہیں۔ اگر یہ عمل خیر ہوتا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ضرور اختیار کرتے اور عبادات وقربات کے لئے نص کا ہونا ضروری ہے اس میں رائے وقیاس نہیں چل سکتا، البتہ دعاء صدقہ اور خیرات کا ثواب مردوں کو پہنچتا ہے اس پر تمام علماء کا اتفاق ہے کیونکہ یہ شارع کی طرف سے منصوص ہے۔

فتاوی لجنۃ دائمۃ 9 / 42 میں ایک سوال و جواب یوں درج ہے:

س: ھل یصل ثواب قراء ۃ القرآن وأنواع القربات إلی المیت من أولادہ أو من غیرھم؟

ج : لم یثبت عن النبي فیما نعلم أنہ قرأ القرآن ووھب ثوابہ للأموات من أقربائہ أو من غیرھم، ولوکان ثوابہ یصل إلیھم لحرص علیہ وبینہ لأمتہ لینفعوا بہ موتاھم فانہ علیہ الصلاۃ والسلام بالمؤمنین رؤف رحیم، وقد سار الخلفاء الراشدون من بعدہ وسائرأصحابہ علی ھدیہ في ذلک رضي اللہ عنھم ولا نعلم أن أحدا منھم أھدی ثواب القرآن لغیرہ والخیر کل الخیر في اتباع ھدیہ وھدی خلفائہ الراشدون وسائر الصحابۃ رضي اللہ عنہم والشر في اتباع البدع ومحدثات الأمور لتحذیر النبي من ذلک بقولہ: إیاکم ومحدثات الأمور فان کل محدثۃ بدعۃ وکل بدعۃ ضلالۃ، وقولہ: من أحدث في أمرنا ھذا ما لیس منہ فھو رد۔ وعلی ھذالا تجوز قراء ۃ القرآن للمیت ولا یصل إلیہ ثواب ھذہ القرأۃ في ذلک بل ذلک بدعۃ۔

أما أنواع القربات الأخری فما دل دلیل صحیح علی وصول ثوابہ إلی المیت وجب قبولہ کالصدقۃ عنہ والدعاء لہ والحج عنہ ومالم یثبت فیہ دلیل فھو غیر مشروع حتی یقوم علیہ الدلیل، وعلی ھذا لا یجوز قراء ۃ القرآن للمیت ولایصل إلیہ ثواب ھذہ القراء ۃ في أصح قول العلماء بل ذلک بدعۃ۔

س: یعنی کیا قرأت قرآن کریم اور دوسری انواع قربات کا ثواب میت کو پہنچتا ہے، میت کی اولاد یا ان کے علاوہ دوسروں کی طرف سے۔

ج: ہمارے مبلغ علم کے مطابق نبی کریم سے یہ ثابت ہی نہیں کہ انہوں نے قرآن کریم کی تلاوت کر کے اس کا ثواب اپنے اعزاء واقرباء یا ان کے علاوہ دوسرے مردوں کو ہبہ کیا ہواگر اس کا ثواب ان تک پہونچتا تو ضرور کر تے اور اپنی امت کو بتاتے تاکہ وہ بھی اس کے ذریعہ اپنے مردوں کو فائدہ پہنچاتے، اس لئے کہ نبی کریم تمام مومنوں پر نہایت شفیق اور مہربان ہیں، آپ کے بعد خلفائے راشدین اور جمیع صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آپ کی اس روش اور طریقہ پر گامزن رہے ۔ ہم نہیں جانتے کہ ان میںسے کسی نے قرآن کریم کا ثواب دوسرے کو ہبہ کیا ہو اور ہر نوع کی خیر وبھلائی نبی کریم اور خلفائے راشدین اور تمام صحابہ کرام کے طریقے کی اتباع وپیروی میں ہے اور ہر طرح کی برائی بدعات وخرافات اور نئی چیزوں کی پیروی میں ہے۔ اس لئے کہ نبی کریم نے اس سے منع کیا ہے فرمایا کہ تم نئی ایجادات سے بچو کیونکہ ہرنئی چیز بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اورآپ نے دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا کہ جس نے ہماری اس شریعت میں ایسی چیز پیدا کی جو اس میںنہیں وہ قابل رد ہے ان نصوص کی بنیاد پر میت کے لئے قرآن خوانی جائز نہیں ہے اور نہ ہی اس کی قرأت کا ثبوت میت کو پہنچے گا بلکہ یہ تو بدعت ہے۔

اور جہاں تک دوسری قربات وعبادات کی بات ہے تو ان کے ثواب میت کو پہنچنے کے سلسلے میں اگر کوئی دلیل صحیح وارد ہو تو اس کو قبول کرنا ضروری ہے جیسے میت کی طرف سے صدقہ کر نا ۔ اس کے لئے دعاء کرنا ، اس کی طرف سے حج کر نا اور جس کے بارے میں کوئی دلیل صحیح وارد نہ ہو وہ غیر مشروع رہے گی یہاں تک کہ اس پر کوئی دلیل وحجت قائم ہوجائے، اسی وجہ سے مردہ کے لئے قرآن خوانی اور اس کیلئے ثواب رسانی علماء کرام سے صحیح ترین قول کے مطابق صحیح نہیں ہے بلکہ یہ بدعت ہے۔

(تفصیل کیلئے ملاحظہ ہو: مرعاۃ 5 / 453، تحفہ 2 / 24، کتاب الجنائز لعبد الرحمن مبارکپوری ص 103 104، کتاب الروح ص 194، 197، اھداء الثواب إلی المیت، تفسیر المنار 8 / 257 258، کتاب الجنائز للألبانی ص 471، نیل الاوطار 4 / 79، المغنی لابن عبد البر 2 / 569، حکم القرأۃ للأموات ھل یصل ثوابھا إلیھم، لمحمد أحمد عبد السلام)

 

دارالإفتاء

جامعہ سلفیہ (مرکزی دارالعلوم)

بنارس