خوش آمدید

خوش آمدید

  • Add Comments
  • Print
  • Add to Favorites

 بسم اللہ الرحمن الرحیم

             الحمد للہ رب العالمین، والصلاۃ والسلام علی نبیہ ورسولہ خاتم المرسلین محمد وعلی آلہ وصحبہ أجمعین ومن تبعھم بإحسان إلی یوم الدین، أمابعد:

            جامعہ سلفیہ (مرکزی دار العلوم ) بنارس ہندوستان میں جماعت اہلحدیث کا مرکزی تعلیمی وتربیتی ادارہ ہے جو جماعت کے بزرگوں اور مخلصوں کی دیرینہ تمناؤں اور دعاؤں کے بعد اللہ کی مشیت سے منصۂ شہود پر جلوہ گر ہوا ہے، اس مرکزی دانش گاہ کی تاسیس جماعت اہلحدیث ہند کی سب سے بڑی دعوتی تنظیم ’’آل انڈیا اہلحدیث کانفرنس‘‘ کی تحریک پر ہوئی،  1963میں اسی کانفرنس کی سرپرستی میں موحد مملکت سعودیہ عربیہ کے سفیر عزت مآب یوسف الفوزان کے دست مبارک سے اس کا سنگ بنیاد رکھا گیا، اور اس کے بعد علامہ ابن باز کی نیابت کرتے ہوئے علامہ عبد القادر شیبۃ الحمد نے 1966 میں اس کا افتتاح کیا، پھر اساتذہ کبار کی خدمات حاصل کرکے تعلیم وتربیت کا منصوبہ بند آغاز کردیا گیا، نصف صدی کا عرصہ گذر گیا، اس دوران جامعہ سلفیہ اپنے بنیادی مقاصد کے حصول اور مختلف ترقیاتی میدانوں میں پیش رفت کی راہوں پر گامزن رہا، علماء ، دعاۃ ، مصنفین ومحققین کی ٹیمیں یہاں سے برابر نکلتی رہیں ، اعلی تعلیم کے لیے یہاں کے فارغین ملکی یونیورسٹیوں اور بیرون ملک سعودیہ عربیہ اور بلاد عرب کی جامعات میں داخل ہوکر پی ۔ ایچ ۔ ڈی۔ کے اعلی تعلیمی مراحل کو پہونچتے رہے، اور ملک اور بیرون ملک کے تعلیمی، دعوتی اور تصنیفی وتحقیقی ودیگر حکومتی اداروں میں اس جامعہ کے فارغین نیک نامی کے ساتھ برسر عمل ہیں، جامعہ کے طے شدہ مقاصد اور منصوبہ جات کی عملی تنفیذ کے ساتھ ساتھ اس عظیم تعلیمی ادارہ کی ضروریات بھی بڑھتی رہیں اور اس کے متعدد شعبہ جات میں حسب منصوبہ اضافے ہوتے رہے، جامعہ نے نصف صدی کے اس عرصہ میں مختلف میدانوں میں ترقیات اور پیش رفت کے جو منزل طے کئے ان کی ایک جھلک ذیل کے سطور میں دکھلائی جارہی ہے:

  • تعلیمی مراحل میں لڑکوں اور لڑکیوں کے الگ الگ کالج قائم کئے گئے ہیں، ان میں دینی اور جدید علوم کی تعلیم کا الگ الگ انتظام کیا گیا ہے۔

  • جامعہ محدود زمین پر قائم ہے، زیادہ طلبہ کی گنجائش نہیں ہے، اس لیے اس جامعہ کی معنوی توسیع کے لیے الحاق کا نظام بنایا گیا اور (30) سے زائد مدارس کو جامعہ کے نصاب ونظام سے ملحق کیا گیا ہے جن کے طلبہ جامعہ میں آکر امتحان میں شریک ہوتے ہیں۔

  • تصنیف وتحقیق وترجمہ کے لیے الگ شعبہ ہے جس سے عربی، اردو، ہندی اور انگریزی میں چار سو سے زائد کتابیں طبع ہوکر ملک اور بیرون ملک پہونچ چکی ہیں۔

  • افتاء کا مستقل شعبہ ہے جہاں سے مفتی حضرات ملک کے گوشے گوشے سے آئے ہوئے سوالات کے فتوے صادر کرتے ہیں۔

  • صحافت ، نشر واشاعت اور دعوت کے شعبہ کے ذریعہ عربی اور اردو زبان میں دو مشہور مجلے کئی دہائیوں سے شائع ہوکر پوری دنیا میں پہونچ رہے ہیں اور دعوت کے اعمال منصوبہ بند طور پر انجام پارہے ہیں۔

  • تعلیم گاہوں میں لائبریری کی بڑی اہمیت ہوتی ہے، جامعہ سلفیہ میں اس پر آغاز ہی سے خصوصی توجہ مبذول کی گئی ہے اور الحمد للہ جامعہ کی لائبریری ایک امتیازی شان کی حامل ہے، بہترین دلکش عمارت میں مختلف علوم وفنون کی منتخب ہزارہا ہزار کتابوں، جدید علوم اور جدید آلات سے مزین ہے، جس سے مطالعہ کے شائقین اور بحث وتحقیق کرنے والوں کو بہتر سہولت میسر ہے۔

  • جامعہ کی پرشکوہ مسجد اپنی وسعت اور فن تعمیر کے اعتبار سے ممتاز ہے ، جس کے زیریں حصہ میں 125 ؍ فٹ لمبا ہال بھی ہے جو امتحان وپروگراموں کے ایام میں استعمال ہوتا ہے۔

  • ایک بڑا وسیع وعریض سیمینار ہال مع لوازمات اور جدید آلات کے مہیا ہے، جہاں طلباء کی تربیت وثقافت کے لیے ہر پندرہ روز پر متنوع موضوعات پر پروگرام منعقد ہوتا ہے ، جس میں ماہرین تعلیم اور ماہرین علوم کو شرکت کی دعوت دی جاتی ہے، یہ سلسلہ طلبہ کی توسیع معلومات وثقافت اور تربیت کے لیے نہایت کارآمد ہے۔

  • طلبہ کی صحت وتندرستی کا خصوصی خیال رکھا جاتا ہے، اس کے لیے جامعہ کے میدان میں والی بال کی فیلڈیں بناکر باضابطہ بعض اساتذہ کی نگرانی میں کھیلوں کا اہتمام کیا جاتا ہے، یہ عمل طلباء کی صحت کے لیے نہایت مفید ہے، ساتھ ہی صفائی ستھرائی کا خصوصی اہتمام وانتظام سال بھر مسلسل کیا جاتا ہے اور حسب ضرورت دوا کا چھڑکاؤ بھی کیا جاتا ہے۔

  • صاف اور صحت بخش پانی کے لیے Aqua Guard مشینیں لگائی گئی ہیں، جامعہ کے اندر پانی کا آٹومیٹک انتظام کیا گیا ہے ، جس سے پانی صحت بخش ٹھنڈا اور وافر مقدار میں ہمیشہ موجود رہتا ہے۔

  • طلبا ء کو کمپیوٹر کا جدید ہنر سکھلانے کے لیے ایک مستقل شعبہ قائم ہے، جہاں سے وہ کمپیوٹر سیکھ کر حکومت ہند کی سرٹیفیکٹ حاصل کرتے ہیں۔

  • مولانا آزاد یونیورسٹی کا سنٹر بھی قائم کردیا گیا ہے ، جہاں فاصلاتی تعلیم کے ذریعہ مسلمان بچے اور بچیاں B.A.،  M.A.، B.Com وغیرہ کی ڈگریاں حاصل کرتے ہیں ، نیز انگلش ٹیچنگ اور ماس کمیونیکیشن پر ڈپلومہ کے کورس کرائے جاتے ہیں، ان کی بہتر تعلیم کے لیے حکومتی یونیورسٹی سے استاد اور دیگر ماہرین تعلیم کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔

            ان گوناگوں اور منتوع شعبہ جات کی خدمات کے ذریعہ مقصود بس یہی ہے کہ طلبہ کے اندر زمانہ کے تقاضوں کی تکمیل کے لیے مناسب اور متنوع اور بھرپور استعداد پیدا ہو۔

            محترم حضرات یہ بات مخفی نہیں کہ جامعہ سلفیہ ہی وہ ادارہ ہے جو برصغیر میں جماعت اہلحدیث کا نمائندہ ادارہ شمار کیا جاتا ہے، اور آج بھی اس کے معیار کو بہتر سے بہتر بنانے کے لیے پرعزم کوششیں جاری ہیں تاکہ حالات کے مطابق وہ جماعت کی آرزؤں کی تکمیل کرتا رہے۔

            اس عظیم الشان تاریخی ادارہ کو بہتر اور معیاری پیمانہ پر جاری رکھنے کے لیے مالی استحکام کی سخت ضرورت ہے، ہم اپنے بہی خواہان اور مخیر حضرات سے اس پر خصوصی توجہ دینے کی درخواست کرتے ہیں۔

            ہم بہت ادب کے ساتھ ان کی خدمت میں عرض کرنا چاہیں گے کہ اس عظیم اور منفرد ادارہ کی اہمیت کو سمجھیں، اس کی کارکرگی کا جائزہ لیں اور اس ادارہ کی ضروریات کو پورا کرائیں اور اس کی دل کھول کر بھرپور مدد فرمائیں۔

            اللہ تعالی اس ادارہ کو مزید ترقی عطا فرمائے، اور اس کے کام کرنے والوں میں خلوص پیدا کرے، اور جوبھی اس ادارہ کی مدد کرے یا اس کے لیے کام کرے اس کو ان کے لیے صدقہ جاریہ بنائے، آمین۔

            وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین، وصلی اللہ محمد وعلی آلہ وصحبہ وسلم۔

عبد اللہ سعود بن عبد الوحید السلفي

ناظم اعلی

Tags:

No Comments to “خوش آمدید”

Comments are closed.