تقسیم مال میں اولاد کے درمیان عدل ضروری ہے

 

        کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس شخص کے بارے میں جس نے اپنا مال وجائداد اپنی حیات میں تقسیم کی اور لڑکی کو لڑکے سے زیادہ حصہ دیا ۔ اب اس کے ورثہ کو کیا کرنا چاہئے؟ کیا کوئی شخص اپنی زندگی میں اس طرح اپنا مال تقسیم کر سکتا ہے یعنی کسی کو کم کسی کو زیادہ اور اگر کوئی شخص ایسا کر دے تو اس کا کیا حل ہے؟

 

الجواب بعون اللہ الوھاب ومنہ الصدق والصواب:

        اولاً: کسی بھی شخص کا مال اس کی اپنی زندگی میںمیراث نہیں بنتا۔ اسی لئے کسی کا اپنی زندگی میں مال کی تقسیم میراث کی تقسیم نہیں ہے۔ بلکہ ہبہ کرنا ہے اور ہبہ کا قاعدہ یہ ہے کہ لڑکا اور لڑکی دونوں کو برابر دیا جائے یعنی جتنا لڑکا کو دیا جائے اتنا ہی لڑکی کو بھی دیا جائے جیسا کہ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کی حدیث سے ثابت ہے۔ اس حدیث کا ترجمہ مندرجہ ذیل ہے:

        حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ان کے والد ان کو لے کر نبی کریم کے پاس آئے اور کہا کہ میں نے اپنے اس لڑکے کو ایک غلام ہبہ کیا ہے تو آپ نے فرمایا کہ : کیا تو نے اپنی سب اولاد کو اسی طرح ایک ایک غلام ہبہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا نہیں توآپ نے فرمایا کہ اس کو لوٹالو۔ (البخاری: فی الھبۃ، باب الھبۃ للولد، برقم: 2586، ومسلم: الھبات، باب کراھۃ تفضیل بعض الأولاد فی الھبۃ، برقم: 4177) اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ میرے باپ نبی کریم کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ آپ کو میرے اس صدقہ (ہبہ) پر گواہ بنائیں تو آپ نے فرمایا کہ : کیا تم نے اپنی سب اولاد کے ساتھ یہی سلوک کیا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ نہیں تو آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اپنی سب اولاد کے درمیان انصاف کرو۔ پس میرے باپ واپس آئے اور اس صدقہ (ہبہ) کو واپس کر لیا۔ (البخاری: الھبۃ، باب الاشھاد فی الھبۃ، برقم: 2587، ومسلم: فی الھبات ، باب کراھۃ تفضیل بعض الأولاد فی الھبۃ، برقم: 4181) ان تمام مذکورہ احادیث سے معلوم ہوا کہ ہبہ میں (اپنی زندگی میں مال تقسیم کر نے میں) اولاد (لڑکا ، لڑکی) کے درمیان انصاف اور مساوات ضروری ہے لیکن اس انصاف اور مساوات کی تفسیر میں اختلاف واقع ہوا ہے ایک رائے تو یہ ہے کہ جتنا لڑکا کو دیا جائے اتنا ہی لڑکی کوبھی دیا جائے اور دوسری رائے یہ ہے کہ وراثت کے مطابق لڑکے کو دوہرا اور لڑکی کو اکہرا دیا جائے ۔ مگر حدیث کے ظاہری الفاظ سے پہلی ہی رائے کی تائید ہوتی ہے لہذا جب کوئی شخص اپنی زندگی میں اپنی اولاد کو کچھ ہبہ کر ے تو سب کو برابر دے یعنی جتنا لڑکا کودے اتنا ہی لڑکی کو بھی دے۔ (ملاحظہ ہو: سبل السلام 3 / 938، التعلیقات السلفیۃ علی سنن النسائی: 2 / 126، فتح الباری: 5 / 214، 215، نیل الاوطار: 4 / 110، 112، فتاویٰ نذیریہ: 2 / 286، 289)

        ثانیاً: اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں اپنا مال تقسیم کردے اور تقسیم کر نے میں انصاف کو ملحوظ نہ رکھ سکے بلکہ کسی کو کسی پر فوقیت دے کر ورثاء میں کسی کی حق تلفی کر دے تو یہ بہت بڑی غلطی اور گناہ عظیم ہے اگر ایسا شخص زندہ ہو تو ایسے شخص کو چاہئے کہ وہ سب سے پہلے اللہ سے توبہ کرے اور اپنی غلطی پر نادم ہو اس کے بعد اگر وہ اپنی زندگی میں تقسیم کو مناسب سمجھتا ہے تو قانون ہبہ کے مطابق تقسیم کر دے ورنہ اپنے ورثہ پر چھوڑ دے وہ سب قانون وراثت کے مطابق بعد میں تقسیم کر لیںگے لیکن اگر کوئی شخص غلط تقسیم کر کے مرجائے تو ان کے ورثاء کو چاہئے کہ شخص مذکور کو گناہ اور متوقع عذاب الہی سے بچا نے کے لئے پھر سے تقسیم کرلیں یعنی قانون وراثت کے مطابق تقسیم کرلیں، ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ شخص مذکور کو معاف کردے، اللہ تعالیٰ معاف کر نے والا اور رحم کر نے والا ہے۔

 

دارالإفتاء

جامعہ سلفیہ(مرکزی دارالعلوم)

بنارس